انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 101

انوار العلوم جلد ۲۰ 1+1 دیباچہ تفسیر القرآن ویدوں میں تحریف و تبدیل کا ثبوت تیسرا مذ ہب جو اپنے ماننے والوں کی تعداد کے لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے، ہندو مذہب ہے۔قرآنی تعلیم کے مطابق ہمارا یقین ہے کہ ہندو مذہب کی بنیاد بھی الہی الہام کے ذریعہ پڑی ہے اور چونکہ اس مذہب والوں کے نزدیک وید ہی شرعی کتاب ہے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ یہی الہام اُس کے نبیوں پر نازل ہوا تھا لیکن اس کتاب کی موجودہ حالت یہ ہے کہ جن لوگوں پر یہ کتاب نازل ہوئی تھی اُن کے نام تک معلوم نہیں ، وید منتروں کے شروع میں بعض لوگوں کے نام درج ہیں لیکن اُن کے متعلق خود ہندو علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ وہ نہیں جن پر الہام ہوا تھا بلکہ ویدوں کے جمع کرنے والے تھے۔ایسی صورت میں ویدوں کی تاریخی حیثیت کچھ باقی نہیں رہتی۔ویدوں کے علماء کی ویدوں کے متعلق مندرجہ ذیل را ئیں ہیں: 66 ا۔پنڈت ویدک منی صاحب اپنی کتاب’ وید سر وسو‘ کےصفحہ ۹۷ پر لکھتے ہیں :۔حقیقت میں جس قدر بُری حالت اس اتھرو وید کی ہوئی ہے اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی۔سائن آچاریہ کے بعد بھی کئی سوکت اس میں ملا دیئے گئے ہیں۔ملانے کا ڈھنگ بہت اچھا سوچا گیا ہے۔وہ یہ کہ پہلے اُس کے شروع اور آخر میں اتھے“ (شروع) اور ”اتی (ختم) لکھ دیا جاتا ہے۔جب دیکھا کسی نے پوچھا تک نہیں تب شروع آخر میں اتھ اتی لکھنا بند کر دیا جاتا ہے بس صرف اتنے سے وہ ( یعنی اضافہ ) سنتا ( ویدک مجموعہ ) میں مل جاتا ہے، جیسے رگوید سنہتا میں بالکھلیتہ سُوکت ملائے جار ہے ہیں ویسے ہی اتھر و وید کے آخر میں آجکل کشتاپ سوکت ملائے جا رہے ہیں۔رہے اگر پوچھا جائے کہ پانچویں انو واک سے لے کر کنتاپ سوکتوں سمیت جتنے سُوکت اتھروید میں ملائے جار ہے ہیں وہ کہاں سے آئے تو کوئی جواب نہیں ملتا۔جہالت کا اتنا دور دورہ ہے کہ آخر میں اتھر دوید سنہتا سما پتا لکھا ہوا دیکھ کر ہی یہ یقین کر لیا جاتا ہے