انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 100

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچهتفسیر القرآن کرتی ہے؟ ماں کا ادب تو ادنیٰ قوموں میں بھی پایا جاتا ہے یہ ان اخلاق میں سے ہے جن کی کی ذلیل ترین انسانوں سے بھی امید کی جاتی ہے۔مگر بنی اسرائیل کا وہ آخری تاجدار، موسوی سلسلہ کا وہ آخری ہیرو جو اپنی قوم کو تاریکی اور ظلمت سے نکالنے اور اسے با اخلاق بنانے کے لئے آیا تھا اُس کی نسبت موجودہ انا جیل ہم سے منوانا چاہتی ہیں کہ اُس نے اپنی ماں کے ساتھ ترش روئی کی اور اُس کے متعلق گستاخانہ رویہ اختیار کیا۔عیسائی کہتے ہیں وہ خدا کا بیٹا تھا، وہ انسان تھا ہی نہیں۔سوال تو یہ ہے کہ اگر مسیح کی اصل شان خدا کا بیٹا ہونا ہی تھی تو وہ مریم کے گھر میں کیوں پیدا ہوا تھا ، اگر مریم کے گھر میں پیدا ہونے کی حالت اُس نے اپنے لئے پسند کر لی اور نو مہینہ تک مریم کو اُن تکالیف میں مبتلا رکھا جن تکالیف کو مائیں حمل کے ایام میں برداشت کیا کرتی ہیں ، اگر خدا کے بیٹے نے دو سال تک مریم کی چھاتیوں سے دودھ پینے کی تکلیف گوارا کی کر لی ، اگر اُس نے کئی سال اپنی تربیت اور خبر گیری کا بوجھ اُس پر ڈالا تو کیا وہ یہ بھی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا تھا کہ اُس عورت کو جسے اُس نے اپنی ماں بنے کا موقع دیا ادب واحترام کے ساتھ یاد کرے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف مسیحی دنیا کے عذرات ہیں۔اُن کے دلوں میں مسیح کی اتنی محبت نہیں ہے جتنی کہ انہیں محرف و مبدل انجیلوں کی بیچ ۱۹ ہے کیونکہ وہ انجیلیں اُن کی بنائی ہوئی ہیں اور مسیح خدا تعالیٰ کی مقدس مخلوق تھا۔پس وہ سیدھا رستہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں کہ انجیلوں کی غلطی کا اقرار کریں مگر اس بات پر آمادہ ہو جاتے ہیں کہ مسیح کو بدنام ہونے دیں۔لیکن دنیا کے تمام معقول انسان جنہوں نے مسیح کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور اس کی نوت قدسیہ کو پہنچاننے کی کوشش کی ہے وہ اس امر کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ موجودہ اناجیل بگڑی ہوئی ہیں ، غلط ہیں اور ایسے امور پر مشتمل ہیں جو روحانیت کے قریب نہیں کرتے بلکہ روحانیت سے دور پھینک دیتے ہیں اور یقیناً ان کی اس حالت کے بعد خدا کی طرف سے ایک کی نئے الہام کی ضرورت تھی جو اس قسم کی غلطیوں سے پاک ہوا اور بنی نوع انسان کو اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ روحانیت کی طرف لے جائے اور وہ کتاب قرآن کریم ہے۔