انوارالعلوم (جلد 20) — Page 93
انوار العلوم جلد ۲۰ ۹۳ دیباچہ تفسیر القرآن پر پیدا نہیں ہو گئی تھی بلکہ ایک بڑا جتھا روحوں کا اُس وقت پایا جاتا تھا۔پھر یہ کہا گیا ہے کہ روح نے مسیح کی منتیں کیں کہ اس سرزمین سے اُس کو نہ نکالیں لیکن جب مسیح نے نہ مانا تو سب دیووں نے اُس کی منت کر کے کہا کہ ہم کو ان سؤروں کے درمیان بھیج تا کہ ہم اُن پر بیٹھیں۔اس پر یسوع نے فی الفور انہیں اجازت دی اور وے ناپاک روحیں نکلی کے سوروں میں بیٹھ گئیں اور وہ غول ( یعنی سوروں کا غول ) کڑاڑے پر سے دریا میں کودا اور می وے قریب دو ہزار کے تھے جو دریا میں ڈوب کر مر گئے۔ان چند فقروں میں کتنا بڑا وہم اور کتنا ظلم موجود ہے۔وہم تو یہ ہے کہ بدروحوں نے انسان میں سے نکل کر سوروں میں جانے کی اجازت مانگی۔اور ظلم یہ کہ مسیح نے دوسرے لوگوں کے سؤروں پر بدروحوں کو مسلط ہونے کی اجازت دی اور اس طرح ہزاروں روپیہ کا مال لوگوں کا ضائع کر دیا۔سوال یہ ہے کہ جب وہ روحیں مسیح سے پوچھے بغیر آدمی کے جسم میں داخل ہو گئی تھیں تو سؤروں میں داخل ہونے کے لئے انہیں کسی اجازت کی کیا ضرورت تھی ؟ دوسرے یہ کہ سوروں کا گلہ کسی کی ملکیت تھا۔جنگلی سور تو اس طرح دو ہزار کے گلے کی صورت میں شہر کے پاس آکر نہیں پھرا کرتے۔اتنی تعداد میں شہر کے قریب پھرنے والے سو ر تو کسی کی ملکیت ہوا کرتے ہیں۔اس پر سوال ہوتا ہے کہ کسی کی ملکیت کو تباہ کرنے کا مسیح کو کیا حق پہنچتا تھا ؟ اگر کوئی کہے کہ خدا کے بیٹے کو سب چیزوں پر ملکیت کا حق حاصل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو محبت کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔اگر خدا محض اپنی ملکیت اعلیٰ سے حق کے طور پر انسان کی ملکیت کو تباہ اور برباد کر سکتا ہے تو پھر کونسا روحانی نظام دنیا میں کام کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا جی ثبوت کیا ہے؟ علاوہ ازیں اس میں ایک اور عظیم الشان وہم کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ سوروں کی میں جب یہ روحیں چلی گئیں تو وہ دریا میں کود کر مر گئے یہ عجیب بات ہے کہ وہ بدروحیں ایک انسان میں گئیں تو وہ دریا میں نہ کو دا لیکن دو ہزار سوروں میں گئیں تو وہ دریا میں کود کر مر گئے۔پس یہ آیات و ہم پر دلالت کرتی ہیں اور ظالمانہ مضامین ان کے اندر پائے جاتے ہیں اور کوئی عقلمند انسان جو مسیح کی عظمت کا قائل ہو وہ ان آیات کو مسیح یا اُن کے حواریوں کی طرف منسوب