انوارالعلوم (جلد 1) — Page 68
گئی تھی یہ پیشگوئی اس طرح ہوئی کہ لیکھرام جو کہ آریوں کا ایک زبردست چلتا پرزہ تھا جب اسلام کو برا بھلا کہنے میں حد سے زیادہ گذر گیا اور نبی کریمﷺکی نسبت نہایت سخت الفاظ استعمال کرنے لگا۔تو اس وقت مخالفت کے جوش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کہا کہ اگر تمهاراخد اسچا ہے اور تم کو اپنے کلام سے مستفیض کر تا ہے تو میری نسبت کوئی عذاب کی پیشگوئی کرو اور چونکہ اس شخص کے کلام سے اور تحریر سے مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ ہوا تھا اور ان کے جگر اس کے جھوٹے دعووں اور نبی کریم ﷺکو گالیاں دینے سے چھد گئے تھے اور کمزور اعتقاد کے مسلمان قریب تھا کہ ڈگمگا جائیں کیونکہ ان کو اپنے دین سے اس قدر واقفیت نہیں تھی کہ مخالف کو اعتراض کا جواب دے سکیں اور اس شخص نے اسلام کی خوبیوں کو برائی کے رنگ میں رنگین کر کے ایسے الفاظ میں پیش کیا کہ وہ حیران ہو گئے اور سوائے خاموشی سے بھی جواب نہ دےسکے اور اس لئے ضروری ہوا کہ اس کے باطل دعووں کو لوگوں پر کھول دیا جاوے اور اس کی لاف و گزاف کو ظاہر کر دیا جائے اور اسی لئے حضرت مسیح موعود نے خدا سے دعا کی اور وہاں سے یہ جواب ملا کہ چھ برس کے اندر عید کے دوسرے دن یہ شخص قتل کیا جائے گا چنانچہ پیشگوئی عام طور پرشائع کی گئی اور چونکہ لیکھرام شرارت میں حد سے زیادہ گزرا ہوا تھا اس لئے اس کے واسطے تو بہ کادروازہ بند تھا اور کوئی شرط اس پیشگوئی میں نہ تھی اور قطعی فیصلہ تھا کہ چھ برس کے اند ر عید کےدوسرے دن یہ شخص قتل کیا جائے گا اور اس نے بھی اس کو ایک بناوٹی بات سمجھ کر ایک پیشگوئی شائع کی کہ مرزا صاحب تین برس کے اند ر مر جائیں گے مگر اس نے تودیک لیا کہ وہ پیشگوئی غلط ہوئی اور دنیا گواہ ہے کہ بجائے مرزا صاحب کے فوت ہونے کے وہ اب تک زندہ ہیں اور ایک بڑی جماعت ان کے ماتحت ہوگئی ہے جس کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ گئی ہے مگر اس بات کی تمام دنیا گواہ ہے کہ اس پیشگوئی کے پانچویں سال جبکہ ایک ہی سال پیشگوئی میں باقی رہ گیا تھا عید کے دوسرےدن عصر کے وقت وہ قتل کیا گیا اور قاتل کا اب تک پتہ نہیں لگا کہ وہ کون تھا حالانکہ اس کے مکان کے اردگرد ایک شادی ہو رہی تھی اور دروازہ پر بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے اور پھر وہ قاتل اپنا چھرا اور تہبند بھی وہیں چھوڑ گیا اور ان قرائن سے ظاہر ہو تا ہے کہ وہ کوئی فرشتہ تھا تمام ہندوستان چھان مارا گیا۔بڑے بڑے مسلمانوں کی تلاشیاں کی گئیں مگر قتل کا سراغ نہ ملنا تھانہ ملا۔بعض بے در و دشمنان اسلام نے مسلمان بچوں کو زہر آلودہ مٹھائیاں کھلا کر مار ڈالا یہاں تک کہ بیسیوں بچے ملک پنجاب میں اس طرح بیدردی سے ہلاک کئے گئے کہ الامان - مگر پنڈت لیکھرام کےخون کا جو دھبہ آریہ سماج اور کل وید کے پیرو ان کے دامن پرلگا وہ نہ اب تک مٹا ہے اور نہ آئندہ 116