انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 63

روشن جگہ کھڑا کر تایا کم سے کم اگر ان لوگوں میں اس قدر ہمت اور دلیری نہ تھی کہ یہ مچامذہب اختیار کرتے تو خود ہی خاموش بیٹھتے اور بلاوجہ لوگوں کا دل نہ دکھاتےاور بڑے بڑے انبیاء علیہم السلام پر تہمتیں نہ لگاتے اور گالیوں سے باز رہتے مگر انہوں نے ایسانہیں کیا اور شوخی کا پہلو اختیار کیا اور علم اور انکسار کو چھوڑ دیا غالباً انہوں نے کسی آئندہ حساب کتاب کا گمان نہیں کیا بلکہ سوچا کہ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ان کےعقیدوں سے پایا جاتا ہے گالیاں دینا اور بزرگوں کو بری طرح یاد کرنا تو ان کے خمیر میں ہے یہاں تک کہ ان کے بعض پر جوش ممبروں نے ایسی کتابیں لکھی ہیں کہ جن سے سوائے حق پوشی اورمسلمانوں کا دل دکھانے کے اور کوئی مطلب نہیں اور ان کتابوں میں ہمارے نبی کریم ﷺ کوایسے سخت الفاظ سے یاد کیا گیا ہے کہ سن کر بھی دل کباب ہو جاتا اور معاً خیال آتا ہے کہ مہ نورمی فشاند و سگ بانگ می زند۔اوردل میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو دندان شکن جواب دیا جائے۔اور ان کے گندے اور نا قابل عمل عقائد کو خوب کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا جائےاور پھر ان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ تعلیم ایسی ہے کہ اس پر کوئی شریف آدمی عمل کر سکے ؟ مگر پھرخیال آتا ہے کہ اس تعلیم کو اچھی طرح سے کھول کر رکھ دینا بھی ایک سخت مشکل کام ہے اس لئےنہیں کہ وہ ایک مضبوط دیوار میں ہے اور اس پر حملہ کرنا دشوار ہے بلکہ اس لئے کہ وہ اس قدرگندی اور فحش ہے کہ دنیا اس کو حیا کے مارے دیکھ نہیں سکے گی اور شریف آدمی اس کو پڑھ کرغیرت سے کانپ اٹھے گا کہ کیا یہ تعلیم ہے جو کہ آر به صاحبان دنیا میں پھیلاتے ہیں اور جس کو یہ لوگ عالمگیر اصول قرار دیتے ہیں اس لئے ہم نے دو تین باتیں ان کی بیان کردی ہیں تاکہ یہ خیال نہ کریں کہ ہمارے مذہب کے قلعہ کو کوئی توڑ نہیں سکتا اور خدا کے فضل سے ہم نے یہ ثابت کردیاہے کہ آریوں کا خدااس قابل نہیں کہ اس سے کوئی طالب حق محبت کر سکے نہ تو اس نے ہم کو پیدا کیا ہے اور نہ ہم کو مٹا سکتا ہے اور نہ وہ رحیم ہے اور نہ ہی وہ ہم کو نجات دے سکتا ہے پس اس میں سی قسم کا بھی حسن نہیں جس کی وجہ سے ہم اس سے محبت کریں۔تعلیم وہ ہے جو کہ ناقابل عملدرآمد ہے عقیدہ وہ ہے کہ انسان جس کو ایک منٹ کیلئے بھی اپنے ذہن میں نہیں رکھ سکتا اورخوداس تعلیم پر چلنے والوں اور ایسا عقیدہ رکھنے والوں کا نمونہ اس قدر برا ہے کہ رہی سہی امید بھی منقطع ہو جاتی ہے، اس لئے ہم اسلام پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہیں کہ کیا یہ مذہب بھی باقی تمام مذہبوں کی طرح انسانی دست برد کے نیچے آچکا ہے یا نہیں اور |********** Individual Book PDF Page 47 Single PDF Page 63 of 643 Vol Printed Page 64 **********|| کیا اس میں بھی ایسی ہی کمزوریاں ہیں جن پر کہ دشمن کے ہاتھ پڑ سکتے ہیں مگر اس سے پہلے کہ میں اسلام کی دو سری باتوں پر نظر ڈالوں اتنا کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام نے جو دو سرے مذاہب کی نسبت اپنی رائے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام ملکوں اور قوموں کے لئے انہیں کے حالات کے مطابق رسول بھیجے اور ان کوہدایت کی اور وہ باتیں بتائیں جن سے کہ وہ اس کو یعنی خدا کو پالیں اور یہ کہ خدا کی سنت رہی ہےاور اس نے ہر زمانہ میں انسانوں کے لئے ایک ایسی تعلیم مقرر کی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنےعادات و اطوار کو خدا کے منشاء کے مطابق کریں اور جب ایک قوم نے بوجہ کسی سستی اور عیش وآرام کے زیادہ ہو جانے کے خدا تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کی تو اس نے پھر دوبارہ ایسے نبی مقرر کئے جو کہ بندروں کی اصلاح کریں اور ان کو پھر اپنے اصل مقام پر لا کھڑا کریں اور اسلام ہم کوبتاتا ہے کہ کسی قوم پر تب تک عذابِ الہی نازل نہیں ہوتا جب تک کہ ان میں رسول نہ پیدا کیاجائے جو کہ ان پر خدا کی حجت کو قائم کرے اور جب تک کہ وہ دلائل عقلی نقلی سے اور معجزات اورالہامات الہی سے ان پر ان کی غلطیوں کو ثابت نہ کر دے اور خدا سے ملنے کی راہ کو ان پر آشکار نہ کردے لوگ مستوجب سزا نہیں ہوتے۔اسلام ہم کو بتاتا ہے کہ مجھ سے پہلے بہت سے اور مذہب گذرے ہیں جو کہ خدا کی طرف سےہوئے ہیں اور جو مختلف قوموں اور زمانوں کے لئے رہنما تھے اور اسی وجہ سے ہمارا ایمان ہے کہ عیسائی یہود اور ہنور و غیره مذاہب اصل میں سچے تھے اور امتداد زمانہ سے مسخ ہو کر ان کی شکلیں بدل گئیں اور یہ قرآن شریف کے شروع ہی میں سورہ الحمد سے بھی ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ ہےالحمد لله رب العلمين تر جمہ سب تعریفیں ہیں اس کے لئے جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔اب دیکھنا چاہیئے کہ رب کے کیا معنی ہیں رب کے معنی ہیں وہ ذات جو کہ ایک چھوٹی چیز کو رفتہ رفتہ نشو و نما دے کر پورا کرے اور یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ وہ ایک نطفہ سے انسان بناتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان کی حالت اور عمر کے لحاظ سے سامان مہیا کر کے اس کو ترقی بخشتا ہے یا ایک دانہ کو جب کہ وہ زمین کے اندر پڑا ہو تا ہے اور خطرہ ہوتا ہے کہ انسان کے پیروں تلے کچلا جا کر تباہ نہ ہو جائے یاکسی جانور کی خوراک نہ بنے اگاتا ہے اور جب ذرا سی سبزی دانہ کے باہر نکلتی ہے اس وقت بھی وہ نازک ہوتا ہے اور اس کے ٹوٹنے یا تباہ ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے پس خدا تعالیٰ وہاں سے بھی اس کوبچاتا ہے اور اسکو غذا دے کر اور بھی بڑا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑا ہوتے ہوتے آ خر خود دانےنکالتا ہے اور کئی بالیں اس میں نکلتی ہیں جن میں کہ سینکڑوں دانے ہوتے ہیں۔غرضیکہ ہر ایک چیز کی ربوبیت کر کے اور اس کے مناسب حال غذا دے کر خدا تعالیٰ بڑا کرتا ہے اور اسی لئے اس کا