انوارالعلوم (جلد 1) — Page 62
ایک گھنٹہ میں ہزاروں خون ہو جاتے ہیں اگر وہاں کستوری گھی عود اور صندل جلا ئیں گے تو لڑائی کے دوسرے اخراجات سے زیادہ تویہی خرچ پڑ جائے گا اور پھر اس وقت جبکہ سامان وغیرہ کا بنا نا آگے ہی مشکل ہو جا تاہےاور عود اور صندل کے طومار بھی جانے شروع ہو گئے تو لڑائی میں فتح پا چکے۔غرضیکہ یہ ایسا ایک عقیده ہے جو عمل میں قطعا ًنہیں آسکتا اور نامعلوم پنڈت دیا نند نے ایسا عقیدہ بیان کرنے میں کیا مصلحت سوچی تھی۔پھر ایک اور علم ہے کہ چاہئے کہ ایک با ایمان آریہ چار سو سال کی عمر پاکر مرے اور یہ ایک ایسا علم ہے کہ جس پر خود پنڈت دیانند بھی عمل نہیں کر سکا اور چونکہ پنڈت دیانند نے اس کو ایمان کا معیار مقرر کیا ہے اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ خود ان کی کیا حالت ہوگی کیونکہ انہوں نے ایک نیچ آریہ کی عمر بھی نہیں پائی جس کی بابت خور انہوں نے لکھا ہے کہ دو سو سال کی ہونی چاہئے۔پس جس تعلیم پر کہ خود معلم عمل نہ کر سکے اس پر دوسراکب عمل کر سکتا ہے اور اب تک اگر کوئی اور آریہ اس کا ثبوت دیتا تو ہم مان بھی لیتے کہ در حقیقت ایسا دنیا میں ہو تا ہے مگر جہاں تک تاریخ بتاتی ہے اس وقت تک ہمیں کوئی ایسا آدمی نہیں معلوم ہوتا جس نے آریوں کے اصول پر عمل کر کےچار سویا کم سے کم دو سو سال کی عمر بھی پائی ہو پس ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوائے زبانی جمع خرچ کے آریوں کے پاس اور کچھ نہیں ہے وہ مسائل جن پر صرف ایمان لانے کی ضرورت ہےمثلا روح اورمادہ کا خدا کی طرح ازلی ہو نا اور تناسخ وہ تو ایسے لغو ہیں کہ دہریہ میں اور آریوں میں کوئی فرق نہیں رہتا اور مسائل جن پر عمل کرنے کا آریوں کو حکم دیا گیا ہے ایسے بودے ہیں اوران پر عمل کرنا اس قدر مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ خود آریہ مت کا بانی اور اس کے چیلے بھی اس پر عمل نہیں کر سکے جیسا کہ نیوگ اور مردہ کے جلانے کے قواعد اور پھر چار سو سال کی عمر کا پانا غرضیکہ یہ مذہب سر سے پیر تک ایسی ہی باتوں سے بھرا پڑا ہے اور نا معلوم ان لوگوں میں باوجود اس قدر نقائص ہونے کے دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کی جرأت کیونکر پیدا ہوئی اور خاص کر اسلام جیسے پاک اور مقدس مذہب پر ہے بے بنیاد تہمتیں لگانے کا خیال ان کے دلوں میں کیونکر سمایا۔حالانکہ ان کوچاہئے تھا کہ خود اپنے مذہب میں اس قدر نقائص اور غلطیاں دیکھ کر کسی اور مذہب کی طرف رجوع کرتے اور جس طرح ہوتا کوشش اور سعی سے آخراس بات کو دریافت کر لیتے کہ کون سامذہب سچا ہے اور اس صورت میں امید قوی تھی کہ خدا تعالیٰ جو کہ رحیم و کریم ہے اور ان لوگوں کو ہدایت دیتا اور گمراہی سے بچاتا اور اس اند میرے سے جس میں کہ یہ کھڑے ہوئے سرگردان وپریشان ہو رہے ہیں نکال کر کسی