انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 46

سچ ہوتا کہ خدا کسی سے کلام بھی کر تا ہے تو آج کل بھی کیسے کرتايا کم سے کم کی تاریخی زمانہ میں اس کی شہادت پائی جاتی۔مگر ایسا نہیں اس لئے ضرور اس میں کوئی راز ہے۔اور ایسے شکوک کو رفع کرنے کے لئے اور دنیا پر اپنا نام ثابت کرنے کے لئے پر میشور کو ضروری تھا کہ وہ کچھ بندوبست کر تامگر افسوس کہ ہمیں کوئی ایسا ذریعہ نہیں ملتا جس سے کہ ہم اس اعتراض کو مٹا سکیں اور اگر کوئی ہے اور اب بھی کوئی ایسا انسان دنیامیں موجود ہے جس سے خدا کام کرتا ہے تو امید ہے کہ کوئی ہندو مہاشہ ہمیں اس سے انٹروڈیوس(Introduce کرائیں گے اور دنیا پر ایک بڑا احسان کریں گے کہ آج تک مخالف جس بات کارونا رو رہے تھے اور بار بار اعتراض کرتے تھے کہ امام علی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے وہ غلط ہے اورہندوؤں میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ رشیوں کی طرح خدا سے اس قسم کا تعلق رکھتے ہیں۔مگر یہ ثابت کرنا ایسا ہی محال ہے جیسا کہ یہ ثابت کردیا کہ تین ایک ہے اور ایک تین۔پس ہم دوسری بات کو لیتے ہیں اور اس بات کو کہ آیا ہم نے ہندوؤں کا سلسلہ الہام سے منقطع ہو نا ثابت کررہا ہے یا نہیں ناظرین کے انصاف پر ہی چھوڑتے ہیں اور وہ دوسری بات ان کا یہ عقیدہ ہے کہ بتوں کی پرستش کے بغیر نجات کا ملنا محال ہے اس عقیدہ کے ردّ کے لئے ہم کو کچھ گہری تحقیقات کی ضرورت نہیں۔کیونکہ ہم پہلے اس بات کو ثابت کر چکے ہیں کہ کسی سوال کا آگے سے جواب ملناہی اس بات کا کامل ثبوت ہوتاہے کہ وہ چیز در حقیقت اس بات کے لائق ہے کہ ہماری بات کو پورا کرسکے یا ہم کو تسلی ہی دے سکے مگر بتوں کے آگے سر جھکانا اس قدر فضول ہے کہ خواہ کتناہی چیخیں چلائیں وہاں سے جواب باصواب ملناتو الگ رہا انکار تک سے اطلاع نہیں دی جاتی۔پھر ہم کس طرح تسلیم کر لیں کہ وہ سنتے بھی ہیں۔کیونکہ ایک چیز کا یا ایک جاندار کا بولنا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ وہ سنتا بھی ہے مگر جب چیخنے پر بھی جواب نہ ملے تو فوراً خیال اس طرف جاتا ہے کہ ضرور اس |جاندار کی یا تو زبان نہیں یا کان نہیں اور ان دونوں صورتوں میں بتوں کا ابطال ہوتا ہے اگر سنتےنہیں تو انہوں نے ہمارے کام خاک کرنے ہیں ، اور اگر بول نہیں سکتے اور خود اپنے لئے گویائی پیدا نہیں کر سکتے تو ہمارے لئے کیا کر سکتے ہیں۔اور دو سرے غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندووں نے ان عجائبات قدرت کو جن کے سمجھنے سے ان کی عقل قاصر رہی خدایا اس کے نائب تصور کر لیاہے اوراسی طرح بڑی اور شاندار چیزوں کو بھی وہی درجہ عطا کیا ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دوچیزوں کو انہوں نے خدا نہیں بنایا بلکہ لاکھوں چیزوں کو قابل پرستش ٹھہرایا ہے یہاں تک کہ اندازہ لگایا جا تا ہے کہ ہندووں کے تینتیس (۳۳) کروڑ دیوتاہیں۔اور یہ کامل ثبوت ہے ہمارے دعوٰی کاکہ در حقیقت جس بات کی بڑائی ان کے دل میں بیٹھ گئی اس کی یہ پرستش کرنے لگ گئے۔اور جو بڑا