انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 599

کرے کہ کیوں ہم آپؐ کو ایک خاص گروہ میںشامل کر تے ہیں اور دوسرے سے نکالتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا بھی جواب دیں کیونکہ اس سوال کا جواب دیے بغیر آنحضرت ﷺ کی سیرت کا ایک پہلو نا مکمل رہ جا تا ہے۔اور آپؐ جیسے مکمل انسان کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں جو نا مکمل ہو پس اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گوا ہی پیش کرتے ہیں جو آپؐ کی ازواجِ مطہرات سے تھیں۔اور آپؐ کے اخلاق کی کماحقہ واقف تھیں۔صحیح بخاری میں آپؓ سے روایت ہے کہ مَا خُیِّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَمْرَیْنَ اِلَّا اَخَذا اَیْسَرَھُمَا مَالَمْ یَکُنْ اِثْمًا، فَاِنْ کَانَ اِثْمًا کَانَ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِہٖ اِلَّا اَنْ تُنْتَھَکَ حُرْمَۃُ اللّٰہِ، فَیَنْتَقِمُ للّٰہِ بِھَا۔(بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبیﷺ)یعنی آنحضرت ﷺ کو جب کبھی دو باتوں میںاختیار دیا جا تا تھا تو آپؐ دونوں میں سے آسان کو اختیار کر لیتے تھے جب تک کہ گناہ نہ ہو۔اور جب کو ئی گناہ کا کام ہو تا تو آپؐ اس سےسب لوگوں سے زیا دہ دور بھاگتے۔اور آپؐ کبھی اپنے نفس کے لیے انتقام نہ لیتے تھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کر دہ حرمتوں میں سے کسی کی بے حرمتی کی جا تی تھی تو آپؐ خدا کے لیے اس بے حرمتی کا بدلہ لیتے تھے۔اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو کاموں کا اختیار دیا جا تا کہ آپؐ جو چاہیں کریں تو آپؐ ان دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے (کیونکہ بندہ کا یہی حق ہے کہ اپنے آپ کو ہمیشہ زائد بو جھوں سے بچا ئے تا ایسا نہ ہو کہ اپنے آپ کو کسی مصیبت میں گرفتار کر دے)لیکن اگر کبھی آپؐ دیکھتے کہ ایک آسان بات کو اختیار کرکے کسی وجہ سے کسی گناہ کا قرب ہو جا ئے گا۔تو پھر آپؐ کبھی اس آسان کو اختیار نہ کر تے بلکہ مشکل سے مشکل امر کو اختیار کر لیتے مگر اس آسان کے قریب نہ جا تے (اور یہی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا کام ہے کہ وہ گناہ سے بہت دور بھاگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر نے میں کسی سختی یا کسی مشکل کےبرداشت کر نے سے نہیں گھبراتے) پھر فر ما تی ہیں کہ آپؐ کی یہ بھی عادت تھی کہ آپؐ اپنے نفس کےلیے کبھی انتقام نہ لیتے یعنی خلافِ منشا امور کو دیکھ کر جب تک وہ خاص آپؐ کی ذات کےمتعلق ہو تے تحمل سے ہی کام لیتے۔خفگی،ناراضگی یاغضب کااظہار نہ فرماتے نہ سزا دینے کی طرف متوجہ ہو جا تے۔ہاں جب آپؐ کی ذات کے متعلق کو ئی امر نہ ہو بلکہ اس کااثر دین پر پڑتا ہو اور کسی دینی مسئلہ کی ہتک ہو تی ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان پر کوئی دھبہ لگتا ہو۔تو آپؐ اس وقت تک صبر نہ