انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 585

جنگ کی وجہ یہی ہو ئی کہ انگلستان کے رِجالِ سیا ست ایک فیصلہ دے کر اس کو واپس نہیں لینا چاہتے تھے گو وہ اس بات کو خوب سمجھ گئے تھے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں جس کا نتیجہ ایک خو نر یزجنگ ہو ئی اور ایک سر سبزو شاداب ملک ہاتھ سے جا تا رہا۔خود ہندوستان میں تقسیم بنگا لہ کا فیصلہ ایک کھلی نظیر موجود ہے کہ خود وزراء انگلستان قبول کرتے تھے کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہوالیکن ڈرتے تھے کہ اسے تبدیل کر دیں گے تو ملک میں حکومت کی بے رُعبی ہو گی چنانچہ جب تک شہنشاہ ہند کی تا ج پوشی کا ایک نہایت غیر معمولی موقع پیش نہیں آیا اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔اور درحقیقت بظاہر دنیاوی نقطۂ خیال سے یہ بات ہے بھی درست کیونکہ جب رعایا کے دل میں یہ بیٹھ جا ئے کہ ہم جس طرح چاہیں کرا سکتے ہیں یا ان کو یہ خیال ہو جا ئے کہ ہما را حاکم تو بالکل غیر مستقل مزاج آدمی ہے اسے جس طرح چاہیں پھیردیں تو وہ بہت دلیر اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں سست ہو جا تی ہے اور اسی وجہ سے رِجالِ سیاست نے اس بات کو بہت پسند کیا ہے کہ حاکم اپنے فیصلہ کو بہت جلدی واپس نہ لے بلکہ حتّٰی الامکان اس پر قائم رہے۔ہمارے آنحضرت ﷺ جس پاک فطرت کو لے کر پیدا ہو ئے اور جن کمالات کو آپؐ نے حاصل کیا تھا وہ چاہتے تھے کہ آپؐ ہمیشہ خیر اختیار کریں ایک دنیاوی بادشاہ یا حاکم اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ میں اپنے ایام حکومت میںحکومت کے رعب کو قائم رکھتا رہا ہوں اور ایک مضبوط ارادہ کے سا تھ نظام حکومت چلا تا رہا ہوں مگر میرے اس پیا ر ے کا یہ فخرنہ تھا کہ میں نے جو کچھ کہہ دیا اس پر پا بند رہا ہوں بلکہ اس کا فخریہ تھا کہ میں نے جب عمل کیا خیر پر کیا اور جب مجھے معلوم ہوا کہ میں فلاں رنگ میں کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں میں نے اس کے پہنچانے میں کو تا ہی نہیں کی پس اگر روحانیت کی دنیا میں کو ئی شخص قابل اتباع ہو سکتا ہے تو وہ آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔حضرت ابو موسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اِنَّا اَتَیْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنَ الْاَشْعَرِ یِّیْنَ فَاسْتَحْمَلْنَاہُ فَاَبٰی اَنْ یَّحْمِلَنَا، فَاسْتَحْمَلْنَاہُ فَحَلَفَ اَنْ لاَّ یَحْمِلَنَاثُمَّ لَمْ یَلْبَثِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ اُتِیَ بِنَھْبِ ابِلٍ فَاَمَرَلَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ فَلَمَّا قَبَضْنَا ھَا قُلْنَا :تَغَفَّلْنَا النَّبِیَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمِیْنَہٗ ، لَا نُفْلِحُ بَعْدَھَااَبَدًا،فَاَتَیْتُۃٗفَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّکَ حَلَفْتَ اَنْ لاَّتَحْمِلَنَاوَقَدْحَمَلْتَنَا؟قَالَ:اَجَلْ، وَلٰکِنَّ لَااَحْلِفُ عَلیٰ یَمِیْنٍ،فَاَرٰی غَیْرَ ھَا خَیْرًامِنْھَا