انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 565

اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ یَا خَالَۃُ مَا کَانَ یُعِیْشُکُمْ قَالَتْ اَلْاَسْوَدَانِ اَلتَّمَرُ وَالْمَآ ءُ اِلَّا اَنَّہٗ قَدْ کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جِیْرَا نٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ کَانْتْ لَھُمْ مَنَا ئِحُ وَکَانُو ا یَمْنَحُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَلْبَانِھَا فَیَسْقِیْنَا(بخاری کتاب الھبۃ و فضلھا)اے میرے بھانجے! ہم لوگ تو دیکھا کرتے تھے ہلال کے بعد ہلال حتی کہ تین تین ہلال دیکھ لیتے یعنی دو ماہ گزر جا تے مگر آنحضرت ﷺ کے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔حضرت عروہؓ فرما تے ہیں کہ میں نے کہا اے خالہ ! پھر آپ لوگ کیا کھاتے تھے۔حضرت عائشہ ؓنے جواب دیا کہ اَسْوَدَانِ یعنی کھجور اور پا نی کھا کر گزارہ کیا کر تے تھے۔ہاں اتنی بات تھی کہ رسول اللہﷺ کے ارد گرد انصارؓ ہمسایہ تھے اور ان کے پاس دودھ والی بکریاں تھیں وہ آپ ؐکو ان کا دودھ ہدیہ کے طور پر دیا کر تے تھے اور آپ ؐدودھ ہمیں پلا دیا کر تے تھے۔اللہ !اللہ ! کیسی سا دہ زندگی ہے کہ دو دو ماہ تک آگ ہی نہیں جلتی اور صرف کھجور اور پا نی یا دودھ پر گزارہ ہو تا ہے اس طریقِ عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کو شر مانا چاہیے کیونکہ آج کل اسی اکل و شرب کی مرض میں گرفتا رہیں۔اگر پو ری طرح تحقیقات کی جا ئے تو مسلمانوں کا روپیہ کھانے پینے میں ہی خرچ ہو جا تا ہے اور وہ مقروض رہتے ہیں۔وہ اس نبی ؐکی امت ہیں جو مقتدر ہو کر پھر سا دہ زندگی بسر کر تا تھا پھر کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان کے پاس نہیں ہو تا اور وہ زبان کے چسکے کو پورا کرنے کے لیے قرض لے کر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالتے ہیں۔اگر وہ اپنے آپ کو آنحضرت ؐ کے اسوہ حسنہ پر چلا تے اور اسراف سے مجتنب رہتے تو آج اس بد تر حال کو نہ پہنچتے۔اس جگہ یہ بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت ؐ اگر ایک طرف سا دگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی ناپسند فر ما تے تھے۔اور اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا آپ ؐکے سامنے پیش کی جا تی تھی تو اسے بھی استعمال فر ما تے تھے اور یہ نہیں کہ نفس کشی کے خیال سے اعلیٰ غذاؤں سے انکار کر دیں اور یہی کمال ہے جو آپ ؐکو دوسرے لو گوں پر فضیلت دیتا ہے کیونکہ آپؐ کل دنیا کے لیے آئے تھے نہ کہ صرف کسی خاص قوم یا خاص گروہ کے لیے اس لیے آپؐ کا ہر قسم کی خوبی میں کامل ہو نا ضروری تھا اور اگر آپؐ ایک طرف سا دہ زندگی میں کمال رکھتے تھے تو دوسری طرف طیّب اشیاءکے استعمال سے بھی قطعاً اجتناب نہ فرماتے تھے۔وفات تک آپؐ کا یہی حال رہااس حدیث سے تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ کبھی ایسی بات بھی ہو جا تی تھی کہ دو ماہ تک آگ نہ جلے مگر اب میں ایک اور