انوارالعلوم (جلد 1) — Page 559
عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ جذباتِ نفس جو پاک اور نیک ہیں ان کو دبانا تو کسی طرح جائز ہی نہیں بلکہ ان کو تو ابھارنا چاہیے۔اور جو جذبات ایسے ہوں کہ ان سے گناہوں اور بدیوں کی طرف توجہ ہوتی ہو ان کا چھپانا نہیں بلکہ ان کا مارنا ضروری ہے۔پس اگر تکلف سے بعض ایسی باتیں نہیں کرتے جن کا کرنا ہمارے دین اور دنیا کے لیے مفید تھا تو ہم غلط کار ہیں۔اور اگر وہ باتیں جن کا کرنا دینِ اسلام کے رو سے ہمارے لیے جائز ہے صرف تکلف اور بناوٹ سے نہیں کرتے ور نہ دراصل ان کے شائق ہیں تو یہ نفاق ہے۔اور اگر لوگوں کی نظروں میں عزت و عظمت حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو خاموش اور سنجیدہ بناتے ہیں تو یہ شرک ہے۔آنحضرت ﷺکی زندگی میں ایسا ایک بھی نمونہ نہیں پایا جاتا جس سے معلوم ہو کہ آپ نے ان تینوں اغراض میں سے کسی کے لیے تکلف یا بناوٹ سے کام لیا بلکہ آپ کی زندگی نہایت سادہ اور صاف معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی عزت کو لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ عزت و ذلت کا مالک خدا کو ہی سمجھتے تھے۔جو لوگ دین کے پیشوا ہوتے ہیں انہیں یہ بہت خیال ہوتا ہے کہ ہماری عبادتیں اور ذکر دوسرے لوگوں سے زیادہ ہو اور خاص طور پر تصنع سے کام لیتے ہیں تا لوگ انہیں نہایت نیک سمجھیں۔اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیرتک وضو کے اعضاء کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پرہیز کریں گے۔سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے۔اپنی شکل سے خاص حالتِ خشوع و خضوع ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ سب سے اتقٰی اور اَوْرَع تھے اور آپ کے برابر خشیتُ اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپؐ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی۔ابوقتادہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺنے فرمایا: إِنِّیْ لَأَقُوْمُ فِی الصَّلَاۃِ أُرِیْدُ أَنۡ أُطَوِّلَ فِیْہَا فَأَسۡمَعُ بُکَاءَ الصَّبِیِّ فَأَتَجَوَّزُ فِی صَلَاتِیْ کَرَاہِیَۃَ أَنۡ أَشُقَّ عَلٰی أُمِّہٖ(بخاری کتاب الصلوة باب من اخف الصلوة عند الصبی) یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔کس سادگی سے آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سن کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔آج کل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شاید اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی