انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 547

زُرَارَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ بَرِکَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ ھٰذَا اِنْ شَاءَاللّٰہُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْغُلَا مَیْنِ فَسَاوَ مَھُمَا بِلْمِرْبَدِ لِیَتَّخِذَہٗ مَسْجِدًا فَقَالَابَلْ نَھَبُہٗ لَکَ یَآرَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَبیٰ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّقْبَلَہٗ مِنْھُمَا ھِبَۃً حَتّٰی اِبْتَاعَہٗ مِنْھُمَا ثُمَّ بَنَاہُ مَسْجِدًا(بخاری کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی ﷺواصحابہ الی المدینۃ) نبی کریم ﷺ بنی عمر و بن عوف میں کچھ دن ٹھہرے۔دس دن سے کچھ اوپر اور اس مسجد کی بنیادرکھی جس کی نسبت قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھی پھرآپؐ اپنی سواری پر سوار ہو ئے اور آپؐ کے ساتھ لوگ پا پیادہ چلنے لگے۔آپؐ کی اونٹنی چلتی گئی یہاں تک کہ وہ مدینہ کے اس مقام پر پہنچ کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں مسجد نبوی تیار کی گئی اور اس وقت وہاں مسلمان نماز پڑھا کر تے تھے۔اس مقام پر کھجوریں سکھا ئی جا تی تھیں۔اور وہ دویتیم لڑکوں کا تھا جن کا نام سہیل اور سہل تھا اور جو سعد بن زرارہ ؓ کی ولایت میں پلتے تھے۔جب یہاں آپؐ کی اونٹنی بیٹھ گئی تو آپؐ نے فر ما یا کہ ان شاءاللہ یہاں ہی ٹھہریں گے۔پھر رسول کریم ﷺ نے ان دونوں لڑکوں کو بلوایا اور ان سے چاہا کہ اس جگہ کی قیمت طے کرکے انہیں قیمت دے دیں تاکہ وہاں مسجد بنائیں۔اوردونوں لڑکوں نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم قیمت نہیں لیتے بلکہ آپؐ کو ہبہ کر تے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ہبہ لینے سے انکار کیا اور آخر قیمت دے کر اس جگہ کو خرید لیا۔اس حدیث سے ایک بات تو یہ معلوم ہو تی ہے کہ مدینہ میں داخل ہو تے ہی پہلا خیال آپؐ کو یہی آیا کہ مسجد بنا ئیں اور پہلے آپؐ نے اس کے لیے کو شش شروع کی اور آپؐ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا جو جوش تھا اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ جا تا ہے۔دوسرے یہ امر ثابت ہو تا ہے کہ آپؐ معاملات میں کیسے محتاط تھے۔اہل مدینہ نے بار بار درخواست کرکے آپؐ کو بلا یاتھا اور خود جا کر عرض کی تھی کہ آپؐ ہمارے شہر میں تشریف لا ئیں اور ہم آپؐ کو اپنے سر آنکھوں پر بٹھا ئیں گے اور جان ومال سے آپؐ کی خدمت کریں گے اور جہاں تک ہماری طاقت ہو گی آپؐ کو آرام پہنچا نے کی کوشش کریں گے۔غرض کہ بار بار کی درخواستوں اور اصرار کے بعد آپؐ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تشریف لا ئے اور مدینہ والوں کا فرض تھا کہ آپؐ کو جگہ دیتے اور حق مہمان نوازی اداکرتے اور مسجد بھی