انوارالعلوم (جلد 1) — Page 545
جب آنحضرتﷺگھر تشریف لائےتو حضرت عائشہؓ نے جنابؐ کو حضرت فاطمہؓ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں نے آپؐ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت ﷺ نے فر ما یا کہ اپنی اپنی جگہ پرلیٹے رہو۔پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپؐ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔جب آپؐ بیٹھ گئے تو آپؐ نے فر ما یا کہ میں تمہیں کو ئی ایسی بات نہ بتا دوں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سُبْحَا نَ اللّٰہ کہو اور تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہو پس یہ تمہارے لیے خادم سے اچھا ہو گا۔اس واقعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آنحضرت ﷺ اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ با وجود اس کے کہ حضرت فاطمہؓ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پیسنے سے آپؓ کے ہاتھوں کو تکلیف ہو تی تھی مگر پھر بھی آپؐ نے ان کو خادم نہ دیابلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔آپؐ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہ ؓ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لیے آپؐ کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہ ؓ میں تقسیم کر نے کے لیے آتے تھے اور حضرت علی ؓ کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہ ؓ بھی اس کی حق دار تھیں لیکن آپؐ نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال میں سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کاکچھ نتیجہ نکالتے اور با دشاہ اپنے لیے اموال الناس کو جا ئز سمجھ لیتے پس احتیاط کے طور پر آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آپؐ کے پا س اس وقت بغرض تقسیم آئیں کو ئی نہ دی۔اس جگہ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ جن اموال میں آپؐ کا اور آپؐ کے رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فر مایا ہے ان سے آپؐ خرچ فر ما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے ہا ں جب تک کو ئی چیز آپؐ کے حصہ میں نہ آئے اسے قطعاً خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو۔اگر کو ئی نظیر مل سکتی ہے تو صرف اسی پا ک وجود کے خدام میں سے۔ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔مذکورہ با لا واقعات سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہو جا تا ہے کہ آنحضرت ﷺ نہایت