انوارالعلوم (جلد 1) — Page 529
وہی سنتے اور دیکھتے ہیں جو ان کے ارد گرد ہو تا ہے۔اگر ارد گرد ظلمت کے سا مان ہی نہ ہو ںاور بدی کی تحریک اور میلان پیدا کر نے والے ذرا ئع ہی مفقود ہوں تو پھر انہوں نے دل پر کیا خراب اثر ڈالنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعاکی اللّٰھُمَّ اجْعَلْ عَنْ یَمِیْنِیْ نُورًا وَیَسَا رِیْ نُوْرًا وَفَوْقِیْ نُوْرًاوَتَحْتِیْ نُوْرًاوَاَمَامِیْ نُوْرًا وَخَلْفِیْ نُوْرًا (بخا ری کتاب الدعوات باب الدعاا ذانتبہ من اللیل)اے اللہ! میری بینائی اور شنوائی کو نور سے منور کرکے یہ بھی کر کہ میرے دا ئیں بائیں،آگے پیچھے ،اوپر نیچے جہات ستہ میں نور ہی نور ہو جا ئے اور جن با توں سے آنکھوں اور کانوں کے ذریعہ دل پربرا اثر پڑتا ہے وہی میرے ارد گرد سے فنا ہو کر ان کی بجا ئے تقویٰ اور طہارت کے پیدا کر نے والے نظارے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیں۔پھر اس خیال سے کہ پو شیدہ در پو شیدہ ذرائع سے بھی دل ملوث ہو تا ہے۔فر ما یا کہ وَجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا میرے لیے نور کے دروازے کھول دےظلمت سے میرا کچھ تعلق ہی نہ رہے نور ہی سے میرا واسطہ ہو اس دعا کو پڑھ کر ہر ایک تعصب سے کو را آدمی سمجھ سکتا ہےکہ آنحضرت ﷺ بدیوں سے کیسے متنفر تھے۔شفقت علی النّفسبہت سے انسان اپنی حماقت سے بجا ئے فا ئدہ کے الٹا نقصان کر لیتےہیں اور اپنے نزدیک جسے خوبی سمجھتے ہیں وہ دراصل برائی ہو تی ہے اور اس پر عامل ہو کر تکلیف اٹھا تے ہیں۔بہت سے لوگ دیکھے جا تے ہیں کہ وہ اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقت میں ڈال کر تکلیف دیتے ہیں اور اسے فخر سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ جا نتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنا کو ئی آسان امر نہیں پہلے انسان پو ری طرح سے اپنے نفس کو ما رے اور اپنے ہر فعل اور قول کو اس کی رضا کے مطابق بنا ئے اپنی خواہشات کو اس کے لیے قربان کر دے۔اپنی آرزوؤں کو اس کے منشا کے مقابلہ میں مٹا دے۔اپنے ارادوں کو چھوڑ دے۔اس کی خاطر ہر ایک دکھ اور تکلیف اٹھا نے کو تیار ہو جا ئے۔اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی خاک عظمت نہ سمجھے اور جس چیز کے قرب سے اس سے دوری ہو اسے ترک کر دے۔اپنے اوقات کو ضا ئع ہو نے سے بچا ئے تب ہی انسان خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکتا ہے اور جب اس کا فضل نا زل ہو تو اس کی رحمت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور وہ ان اسرار کا مشاہدہ کر تا ہے جو اس سے پہلے اس کے واہمہ میں بھی نہیں آتے تھے اور یہ حالت انسان کےلیےایک جنت ہو تی ہے جسے اسی دنیا میںحاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا ایسےایسے رنگ میں مطالعہ کر تا ہے کہ عقل حیران ہو جا تی ہے اور جنت کی تعریف ان کشوف پر صادق