انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 526

کی مظہر ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ آپؐ صبح کی سنتوں کے بعد یہ دعا مانگتے۔اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَعَنْ یَمِیْنِیْ نُورًا وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا وَفَوْقِیْ نُوْرًا وَتَحْتِیْ نُوْرًاوَاَمَامِیْ نُوْرًا وَخَلْفِیْ نُوْرًا وَاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا (بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذانتبہ من اللیل)یعنی اے اللہ میرے دل کو نور سے بھر دے اور میری آنکھوں کو نورا نی کر دے اور میرے کانوں کو بھی نو ر سے بھردے اور میری دا ئیں طرف بھی نور کر دے اور با ئیں طرف بھی اور میرے اوپر بھی نور کر دے اور نیچے بھی نور کر دے۔اور نور کو میرے آگے بھی کر دے اور پیچھے بھی کر دے۔اور میرے لیے نور ہی نور کر دے۔حضرت ابن عباسؓ فر ما تے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہو ئے سننے کا اتفاق مجھے اس طرح ہوا کہ میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن سو یا جو رسول کریمؐ کی ازواج مطہرات میں سے تھیں اور میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ اس طرح دعا مانگتے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔پس یہ دعا ایسے خلوت کے وقت کی ہے کہ جس وقت انسان اپنے خدا سےآزادی کے سا تھ اپنا حال دل عرض کر تاہے۔اور اگر چہ خدا تعالیٰ پہلے ہی سے انسان کے خفیہ سے خفیہ خیالات کو جانتا ہے پھر بھی چونکہ فطرت انسانی اسے عرض حال پر مجبور کر تی ہے اس لیے بہتر سے بہتر وقت جس وقت انسان کی حقیقی خواہشات کا علم ہو سکتا ہے وہ وقت ہے کہ جب وہ سب دنیا سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر میں اپنے رب سے عا جزانہ التجا کر تا ہے کہ میری فلاں فلاں خواہش کو پورا کر دیں یا فلاں فلاںانعام مجھ پر فر ما دیں۔غرض کہ یہ دعا ایسے وقت کی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کے سوا آپؐ کا محرم رازاور کو ئی نہ تھا اور صرف ایک نا بالغ بچہ اس وقت پاس تھا اور وہ بھی اپنے آپؐ کو علیحدرکھ کر چپکے چپکے آپؐ کے اعمال وحرکات کا معائنہ کر رہا تھا۔اب اس دعا پر نظر ڈالو کہ یہ کس طرح آپؐ کے تقویٰ اورطہارت پر رو شنی ڈالتی ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ آپؐ ہر ایک قسم کی بد کلامی وبدگوئی،بد اخلاقی اور بداعمالی سے پاک تھے اور یہی نہیں کہ پاک تھے بلکہ آپؐ کو بدی سے سخت نفرت اور نورا ور نیکی اور تقویٰ سے پیار تھا اور یہی انسانی کمال کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ہے یعنی وہ بدی سے بچے اور تقویٰ کی زندگی بسر کرے۔ظلمت سے متنفر ہو اور نور سے محبت رکھے مگر اس حدیث سے پچھلی حدیث پر اور بھی رو شنی پڑ جا تی ہے کیونکہ پچھلی حدیث سےتو یہ ثابت ہو تا تھا کہ آپؐ بدی سے متنفر تھے مگر اس حدیث سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ فعل بالارادہ تھا عادتاً نہ تھا اور یہ اور بھی کمال پر دلالت کر تا ہے۔