انوارالعلوم (جلد 1) — Page 516
ذکرالہٰی ہر وقتمیں نے پیچھے بعض واقعات سے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو ذکرالہٰی سے کیسی محبت تھی اور آپ کس طرح ہر موقع پر خدا تعالیٰ کانام لیناپسندفرماتے تھے اور صرف خود ہی پسند نہ فرماتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے اور وفات کے وقت بھی آپ کی زبان پر خدا تعالیٰ کاہی ا ذکر تھا۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے ذکر پر چشم پرنم ہو جاتے تھے اور آپ کا خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا یا سننا معمولی بات نہ تھی بلکہ ایک عاشقانہ د رد اور محبانہ ولولہ اس کا محرک اور باعث تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں قَالَلي النبي صلى الله عليه وسلم-: «اقرأ عليَّ القرآنَ»، فقلت: يا رسول الله، أقرأ عليك، وعليك أُنزل؟! قال: «إني أحب أن أسمعه من غيري» فقرأتُ عليه سورةَ النساءِ، حتى جِئْتُ إلى هذه الآية: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا} قال: «حَسْبُكَ الآنَ» فالتفتُّ إليه، فإذا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ۔(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ کیف اذا جئنا من كل ا مة بشهيد )مجھے نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ مجھےکچھ قرآن سناؤ میں نے کہا کہ کیا میں آپ کو قرآن سناؤں حالانکہ قرآن شریف آپ ہی پر نازل ہوا ہے۔فرمایا کہ مجھے یہ بھی پسند ہے کہ میں دوسرے کے منہ سے سنوں۔پس میں نے سورة نساءمیں سے کچھ پڑھا یہاں تک کہ میں اس آیت تک پہنچاکہ پس کیا حال ہو گا جب ہر ایک امت میں سے ہم ایک شهید لائیں گئے اور تجھے ان لوگوں پر شهید لائیں گے اس پر آپ برداشت نہ کر سکےاور فرمایا کہ بس کرو اور میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔اللہ اللہ کیا عشق ہے اور پھر کیسا ایمان ہے۔آپﷺ قرآن شریف کو جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے خودپڑھنے اور دوسروں کو سنانے کا حکم دیتے تھے اور پھر اپنے محبوب کا کلام سنکر چشم پر آب ہو جاتےآپ ایسے بہادر تھے کہ میدان کارزار میں آپ تک دشمن کی رسائی نہ ہوتی اور حضرت علی ؓجیسےبہادر آدی فرماتے ہیں کہ جس جگہ آپ کھڑے ہوتے تھے وہاں وہی آدمی کھڑا ہو سکتا تھا جو نہایت دلیر اور بہادر ہو اور معمولی آدمی کی جرأت نہ ہو سکتی تھی کہ آپ کے پاس کھڑا ہو۔پھر ایسا بہادرانسان کہ جس کے سامنے بڑے بڑے بہادروں کی روح کانپتی تھی اور ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں وہ بہاور انسان جس کے نام کوسنکر بادشاہ خوف کھاتے تھے جس کی بہادری کاشہرہ تمام عرب اورشام اور ایران میں ہو رہا تھا جس کی ہمت بلند کے سامنے قیصر و کسری ٰکے ارادے پست ہو رہے تھےوہ خدا تعالیٰ کا کلام سنکر روتا ہے اور آپ کے دل کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ زیادہ سننا گویا اس کے لئے برداشت سے بڑھ کر ہے۔کیا یہ بات مطر قلب پر دلالت نہیں کرتی کیا اس سے یہ ثابت