انوارالعلوم (جلد 1) — Page 464
عجب نوریست دَر جانِ محمدؐ عجب لعلیست دَر کانِ محمدؐ ندانم ہیچ نفسے در دو عالَم کہ دارد شوکت و شانِ محمدؐ ہم اس بات سے قطعا ًمنکر نہیں ہیں کہ آپؐ کے پہلے بھی اور آپؐ کے بعد بھی بڑے بڑے صاحب کمال پیدا ہو ئے ہیں لیکن اس بات میں بھی کو ئی شک نہیں کہ ان کی مثال اور آنحضرت ﷺ کی مثال دیے اور سورج کی ہے اور سمندر اور دریا کی ہے کیونکہ وہ دلربا یکتا ان تمام خوبیوں کا جا مع تھا جو مختلف اوقات میں مختلف صاحب کمال لو گوں نے حاصل کیں۔آپؐ نے اپنےآپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے احکام کی اطاعت میں ایسا محو کر دیا تھا کہ دنیا میں اس کے رو شن مظہر ہو گئے تھے اور وہ تَخَلَّقُوْابِاَخْلَاقِ اللّٰہِ کہنے والا انسان خود اس قول کا کامل نمونہ تھا زاں نمط شد محوِ دلبر کز کمالِ اتحاد پیکرِ او شُد سراسر صورتِ ربِ رحیم بو ئے محبوب حقیقی می دمد زاں رو ئے پا ک ذات حقانی صفاتش مظہر ذاتِ قدیم میں ان تینوں اقسام اخلاق میں سے پہلے تو اس کے اخلاق حسنہ میں سے وہ حصہ بیان کروں گا کہ جس سے آپؐ کا تعلق باللہ بدرجہ کمال ثابت ہو تا ہے۔پھر وہ جس سے آپؐ کے نفس کی پا کیزگی او رکمال ثابت ہو تا ہے۔اور آخر میں وہ حصہ جس سے مخلوق سے آپؐ کے تعلق کی کیفیت کھلتی ہے۔اخلاص باللہ۔خشیت الٰہی آپ کی ایک دعاآپؐ کی خشیت الٰہی کا ثبوت ایک دعا سے خوب ملتا ہے۔انسان جس وقت لوگوں سے جدا ہو کر دعا مانگتا ہے تو اس وقت اسے کسی بناوٹ کی ضرورت نہیں ہو تی اور اس وقت کےخیالات اگر کسی طرح معلوم ہو جا ئیں تو وہ اس کے سچے خیالات ہوں گے کیوںکہ وہ ان خیالات کا اظہار تخلیہ میںکرتا ہے۔حضرت عائشہؓ فر ما تی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نماز میں یہ دعا مانگاکرتے تھےاَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ فِتْنَۃِ الْمَمَا تِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَہٗ قَائِلٌ مَااَکْثَرُ مَا تَسْتَعِیْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ اِنَّ