انوارالعلوم (جلد 1) — Page 461
اخلاق کا بہتر سے بہتر گواہ اس کی بیوی ہو تی ہے جس کا تجربہ دوسرے لو گوں کے تجربہ سے بہت زیا دہ صحیح مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے متعلق جو گواہی حضرت خدیجہؓ نے دی ہے وہ آپﷺ کے نیک اخلاق کو ثابت کر نے کے لیے کا فی سے زیا دہ ہے اور اس کے بعد کسی زائد شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت عائشہؓ وحی کی ابتدا بیان کرتے ہوئے فر ما تی ہیں کہ جب پہلی دفعہ آنحضرت ﷺ پر وحی نا زل ہو ئی تو آپؐ بہت گھبرا ئے اور غار حرا سے گھر کی طرف لو ٹے اور آپؐ کا دل دھڑک رہا تھا۔حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آکر آپ ؐنے فرمایا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔جلد کپڑا اوڑھادو۔جس پر آپؐ پر کپڑا ڈالا گیا یہاں تک کہ آپؐ کا کچھ خوف کم ہوا اور آپؐ نے سب واقعہ حضرت خدیجہ ؓکو سنایا اور فر ما یا کہ مجھے تو اپنی نسبت کچھ خوف پیدا ہو گیاہے۔اس بات کو سن کر جو کچھ حضرت خدیجہ ؓنے فر ما یا وہ یہ ہے کَلَّا وَاللّٰہِ مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلیٰ نَوَائِبِ الْحَقِّ (بخاری باب کیف کان بدء الوحی) یعنی سنو جی! میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ خدا تجھے کبھی ذلیل نہیں کر ے گا کیونکہ تو رشتہ داروں کے سا تھ نیک سلوک کر تا ہے اور کمزوروں کا بو جھ اٹھا تا ہے اور تمام وہ نیک اخلاق جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان پر عامل ہے۔مہمانوں کی خدمت کرتا ہے اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کر تا ہے۔اس کلام کے باقی حصوں پر تو اپنے وقت پر لکھوں گا سردست حضرت خدیجہؓ کی گواہی کو پیش کر تا ہوں جو آپؓ نے قسم کھا کر دی ہے۔یعنی تَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَکی گواہی گو کا فی تھی لیکن اپنے خدا کی قسم کے سا تھ مؤکّدکرکے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ میں تمام اخلاق حسنہ پائے جا تے ہیں حتّٰی کہ وہ اخلاق بھی جواس وقت ملک میں کسی اَور آدمی میں نہیں دیکھے جا تے تھے۔یہ گوا ہی کیسی زبردست اور کیسی صاف اور پھر بیوی کی گواہی اس معاملے میں جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نہایت ہی معتبر ہے۔حضرت خدیجہ ؓ فر ما تی ہیں کہ کل اخلاق حسنہ جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں آپؐ میںپا ئے جا تے تھے۔خود رسول کریم ﷺ کی گوا ہی اپنے اخلاق کی نسبتحضرت خدیجہ ؓکی گوا ہی پیش کر نے کے بعد میں خود آنحضرت ﷺ کی گوا ہی اپنی نیک سیرتی کی نسبت پیش کرتا ہوں۔شا ید اس پر بعض لوگ حیران ہوں کہ اپنی نسبت آپؐ گواہی کے کیا معنی ہو ئے لیکن یہ گواہی رسول کریم ﷺ نے ایسی