انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 452

باب دوم عاداتآپ ﷺ کا حُلیہ،لباس اور کھانے پینے کا طریقہ لکھنے کے بعد مناسب سمجھتا ہوں کہ اب کچھ آپؐ کی بعض عا دات پر بھی لکھا جاوے۔ہر انسان کچھ نہ کچھ عادات کے ماتحت کام کر تا ہے۔ہاں بعض تو نیک عاد ات کے عادی ہو تے ہیں اور بعض بد کے۔شریر اپنی شرارت کی عادتوں میں مبتلا ہو تا ہے تو شریف نیک عا دات کا عادی۔ہمارے آنحضرت ﷺ کی ایک دو عادات جو میں اس جگہ بیان کر تا ہوں ان سے معلوم ہو گا کہ آپؐ کس قدر یُمن ونیکی کی طرف متوجہ تھے اور کس طرح ہر معاملہ میں میانہ روی اختیار فر ما تے تھے۔ہنسی کا طریقآپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسان کامل بنایا تھا۔تمام نیک جذبات آپؐ میں پائے جا تے تھے اور ہر خوبی کو اپنے موقع اور محل پر استعمال فرماتے اور ایسا طریق اختیار کر تے جس سے اللہ تعالیٰ کا کو ئی خلق ضائع نہ ہو جا ئے۔بعض بناوٹی صوفیاء کا قاعدہ ہو تا ہے کہ وہ کچھ ایسے تکلفات اور مشقوں میں اپنے آپ کو ڈال لیتے ہیں کہ جس کی وجہ سے انہیں کئی پاک جذبات اور کئی طیبات کو تر ک کر نا پڑتا ہے۔بعض کھانے میں خاک ملا لیتے ہیں۔بعض گندی ہوجا نے اور سڑ جا نے کے بعد غذا استعمال کر تے ہیں۔بعض سارا دن سر ڈالے بیٹھے رہتے ہیں اور ایسی شکل بناتے ہیں کہ گو یا کسی ماتم کی خبر سن کر بیٹھے ہیںاور ہنسنا تو در کنار بشاشت کا اظہار بھی حرام سمجھتے ہیں۔لیکن ہمارا سردار ﷺ جسے خدا نے انسانوں کا رہنما بنایا تھا وہ ایسا کا مل تھا کہ کسی پا ک جذبہ کوضا ئع ہو نے نہ دیتا۔ہنسی کے موقع پر ہنستا۔رونے کے موقع پر روتا،خاموشی کے موقع پر خاموش رہتا اور بو لنے کے موقع پر بو لتا،غرض کو ئی صفت اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی کہ جسے اس نے ضائع ہو نے دیا ہو اور اپنے عمل سے اس نےثا بت کر دیا کہ وہ خدا کی خدا ئی کو مٹا نے نہیں بلکہ قا ئم