انوارالعلوم (جلد 1) — Page 372
ہے۔طاعون کیوں بھیجا ایسے لوگ احمق ہیں اور طبائع کا علم نہیں رکھتے۔اگر بچہ پیسہ لے کر بھی مدرسے نہیں جاتا تو اب اسے مار کر بھیجنا باپ کا ظلم نہیں۔اگر کوئی شخص کنویں میں چھلانگ مارنے گئے ، اور ایک دوسراآدمی اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دے تو وزو نظام نہیں بلکہ رحیم ہے جب دونوں قسم کی طبیعتیں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں نافرمانی کرنے والوں کو ڈر نہ دلائے۔اگر دس آدمی جنت میں جائیں گے تو غالباً ان میں پانچ ایسے ہوں گے جو خوف الہٰی کی وجہ سے نیک ہوئے اوراس لئے دوزخ سے بچ گئے ہیں پس اگر تخویف کا پہلا درجہ ترک کردیا جاتا تو شاید نصف جنتی جنت حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے۔رسول کریم اﷺکے بارے میں لست عليهم بمصيطر (الغاشیہ : ۲۳) آیا ہے۔مگر میں تو کہا کر تا ہوں کہ کاش رسول کریم ﷺ ہم پر داروغہ ہوتے تو لوگوں کا اکثر حصہ جہنم میں پڑ جانے سے بچ جاتا۔یاعبا الذين أمنوااس قدر تمہید کے بعد میں ان آیات کے معنے کرتا ہوں قل اے میرے پیارے رسول کہدو۔اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو - یٰعِبَادِ کہنے میں جو لطف ہے اس پر میں زور دیتا ہوں۔کیو نکہ شاید سب لوگ نہ سمجھیں۔لیکن چونکہ مجھےبچپن سے شاعرانہ مذاق رہا ہے۔اس لئے میں اس کا خوب مزاحاصل کرتا ہوں۔جن میں ذرا بھی محبت کا مادہ ہے وہ اس طرز خطاب کی لذت سے خوب آشنا ہیں۔اس دنیا کے فانی محبوبوں کی طرف سے عشاق آرزو کیا کرتے ہیں کہ کاش وہ ہمیں اپنی گلی کاکتا ہی کہہ دے کوئی گالی ہی دیدے۔تو اس محبوب حقیقی سے جو حسن و احسان کا سرچشمہ ہے یَاعبِادِ میں جو محبت کی چاشنی ملی ہوئی ہے اسے کچھ وہی دل مجھ سکتے ہیں جو اس کو چہ سے آشنا ہیں۔الذين امنواپھریا عباد ہی نہیں کہا بلکہ فرمایا الذين أمنوایعنی اے وہ بندو جو اس بات کے مدعی ہو کہ مجھ پر ایمان رکھتے ہو یا د رکھو کہ صرف دعویٰ کوئی چیز نہیں۔میں ایمان ایک دعویٰ ہے اس کے ساتھ عمل بھی چاہئے۔اور جو زبانی دعوی ٰکرتا ہے مگر عمل نہیں کرتا۔اس میں اور پاگل میں کچھ فرق نہیں۔آپ ایک پاگل خانہ میں جا کر دیکھیں وہاں بھی وہی نظارہ نظر آئے گا۔میں گیا تو ایک پاگل کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں بادشاہ ہوں، مہدی ہوں، میں ساری دنیا کو فتح کر لوں گا۔پھر ایک اور پاگل کو خلیفۃ المسیح نے دیکھا کہ کنکریوں کا ڈھیر کے لگا کر بیٹھاہے اور اپنے تئیں خزانوں کا مالک سمجھ کر کہہ رہا ہے کہ تم لاکھ لے جاؤ ، تم دس لاکھ لے جاؤ۔اب ان پاگلوں اور اس شخص میں کیا فرق ہے جو مؤمن ہونے کامدعی ہے مگر عمل مؤمنوں والے نہیں