انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 11

یورپ میں اسلام کی اشاعتاب یہ عیسائی سلطنتیں خود بخود اسلام کی طرف رجوع کریں گی اور وہ یورپ جو عیسائیت کا گھر ہے اسلام کا مرکز ہوگا۔عیسائیوں میں خود بخود شرک کے بر خلاف خیال پیدا ہو گئے ہیں۔یہاں تک کہ بہت سے حضرت عیسیٰؑ کے خد اہونے کے منکر ہو گئے ہیں۔اور بعض ایسے بھی ہیں جو نعوذباللہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ ولدالزنا تھے۔پس زمانہ خود بخود شرک کو چھوڑنے والا ہے اور قریب ہے کہ خدا اپنا جلال ظاہر کرے۔یہ احمدی جماعت جو کہ اس وقت موردِ انعاماتِ الہیہ اور اس وقت بہت ہی کمزورحالت میں ہے۔ایک دن آنے والا ہے کہ تمام دنیا میں پھیل جائے گی۔خدا ہمارے امام کو فرماتا ہے اور وعدہ دیتاہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اور اس وقت جو ایک کمزوری کی سی حالت ہے یہ ہماری اپنی کمزوری کی وجہ سے ہے ہم اس وقت یتیم کی طرح ہیں جس کو تمام دنیا نے چھوڑ دیاہے۔ایک یتیم تو وہ ہوتا ہے جس کا صرف باپ ہی مرجاتا ہے مگر ہم سے سب دنیا نے قطع تعلق کرلیا۔اگر ترقی چاہتے ہو تو ایک دل ہو کر دعائیں مانگو کیوں کہ خدا وحدت کو پسند کرتا ہے کیوں کہ وہ خودواحد ہے۔پس جب کہ ایک یتیم کی آواز عرش عظیم کو ہلا دیتی ہے تو کیا چار لاکھ یتیموں کی آواز کچھ بھی اثر نہ کرے گی؟ شرک کو دور کر دو اور تمهارے کام ٹھیک ہو جائیں گے۔اب میں آپ لوگوں کے سامنے اس رکوع کا مجمل طور سے بیان کرتا ہوں جو کہ میں نے تقریب کے شروع میں پڑھا تھا۔یعنی سورہ لقمان کادوسرا رکوع سورہ لقمان کے دوسرے رکوع کی لطیف تفسیراس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ (لقمان: ۱۳) یعنی میں نے لقمان کو حکمت بخشی کہ شکر کرے اللہ کا۔اور جو شکر کرتا ہے پس وہ اپنے نفس کے لئے کرتاہے۔اور جو کفر کرتا ہے پس اللہ تو بے پرواہ ہے اور تعریف والا ہے۔اس جگہ خدا تعالیٰ ظاہر کرتاہےکہ میں نے لقمان کو شکست دی اور دنیا تو پہلے ہی لقمان کو عقل مند مانتی ہے۔دنیا میں دو قسم کےانسان ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جن کو دنیا عقلمند سمجھتی ہے اور خدا کے نزدیک وہ ذلیل ہوتے ہیں۔اورایک وہ جن کو دنیا بھی عقلمند اور حکیم سمجھتی ہے اور