انوارالعلوم (جلد 1) — Page 353
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم گوشت خوری كل فاتح قوموں میں گوشت خوری کی عادت پائی جاتی ہے اور کسی ملک کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لوجب کسی قوم نے ترقی کی ہے۔اس کے افراد میں گوشت خوری کا رواج ضرور ہو گا۔ہاں النادر کالمعدوم کسی قوم میں کسی جانور کا گوشت پسند کیا جا تا ہے تو کسی قوم میں کسی جانور بعض قو میں بکرےکے گوشت کو اعلی ٰسے اعلی ٰگوشت قرا ردیتی ہیں بعض دنبہ کے گوشت کو پسند کرتی ہیں۔بعض گائےکے گوشت کو سب سے زیادہ مزیدار قرار دیتی ہیں بعض اونٹ کو لطیف سمجھتی ہیں۔پھر بعض کےخیال میں مچھلی کا سا گوشت کی حیوان کا نہیں ہو تا۔اور بعض کے نزد یک طیور کا گوشت سب پر فائق ہے بعض جنگلی جانوروں کے شکار کو پسند کرتی ہیں لیکن گوشت کا رواج دنیا کے اکثر حصوں میں ہے۔اور دنیا کی آبادی کا اکثر حصہ اس کا استعمال رکھتا ہے۔اس زمانہ میں آریوں نے اس بات پر زور دینا شروع کیا ہے کہ گوشت خور ی سخت گناہ ہےاور اپنے جیسے جانداروں پر ظلم ہے۔جب کہ دیگر حیوان بھی ویسی ہی روح رکھتے ہیں جیسے ہم۔اورہماری طرح تکلیف کا احساس ان میں بھی ہے تو پھر گوشت خوری کے کیا معنی اور کیوں اپنے مزےکی خاطر جانوروں کو تکلیف میں ڈالا جائے ؟ اور جبکہ گوشت کے علاوہ اور کھانے بھی موجود ہیں۔پر گوشت کا استعمال صریح سنگدلی پر دال ہے۔لیکن آر یہ بھی اس کے مزے سے نہیں بچ سکے۔جب کہ ان میں گوشت خوری کے خلاف تحریک ہوئی فوران میں دو پارٹیاں ہو گئیں۔ایک گھاس خور کہلائی اور دوسری نے ماس خور نام پایا۔