انوارالعلوم (جلد 1) — Page 289
سکتے اور کہانی ضرورت پیدا ہوئی تھی کہ یسوع کو صلیب پر لٹکانا پڑا۔پہلے ہی بڑے زورسے توحید باری کے قائل تھے پس وہ کفارہ کے قائل کس طرح ہو سکتے تھے اور حضرت یوسف ؑسے جب ان کے بھائیوں نے کہاکہ بن یا مین کے بدلہ میں ان کو قید کرے تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ یہ ظلم ہےاگر کفارہ درست تھا تو انہوں نے کیوں نہ بدلہ منظور کرلیا۔ششم۔اس وقت کی مسیحی سلطنتیں کیوں کفارہ پر عمل کر کے ایک کے بدلے میں دو سرےآدمی کو پھانسی نہیں دے دیتیں۔کیونکہ اگر وہ اس کو جائز رکھیں تو ہزاروں آدمی روپیہ کے زورسے اپنے قائم مقام دے دیں اور خود کو سزا سے بچائیں۔ہفتم۔کیا وجہ ہے کہ مسیحی گو ر نمنٹیں مسیحوں کو سزا دیتی ہیں کیونکہ جب ان کے گناہ معاف ہوچکے ہیں تو اب وہ جو چاہیں کریں ان پر کوئی الزام نہیں۔اور اگر باوجود کفارہ پر ایمان لانے کےانسان کے لئے گناہوں سے بچنا لازمی ہے تو کفارہ کا فائدہ کیا ہوا پھر تو کفارہ بالکل بے سود ہے اور دوسرے کفارہ کے مسئلہ کی ضرورت تو تب پڑی جبکہ مان لیا گیا کہ انسان گناہوں سے نہیں بچ سکتا۔اس لئے اس کی نجات کے لئے یسوع صلیب پر لٹکایا گیا۔پس اگر کفارہ کے ساتھ نیک اعمال کی شرط لگی ہوئی ہے تو نجات محال ہے کیونکہ مسیحی عقائد کے رو سے انسان گناہوں سے بچ ہی نہیں سکتا۔پس جب انسان نے ضرور گناہ کرنے ہیں اور کفارہ نے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں پہنچانا جب تک اعمال نیک نہ ہوں تو نجات ناممکن ہوگئی اور اگر کہا جائے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو پھرمسیحی مجرم کو سزادینانا جائز ہوا۔بلکہ اگر وہ گنده سے گندہ فعل بھی کرے تواسے تسلی دینی چاہئے کہ تو نے بہت عمدہ کیا تیرے سب گناہ ایسوع نے اٹھائے ہیں تواب ناجی ہے اوراگر یہ کہا جائے کہ جب انسان کفارہ پر ایمان لاتا ہے تو وہ گناہوں سے پاک ہو جا تا ہے تو یہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ مسیحی ممالک کے حالات اظہرمن الشمس ہیں۔او ر یورپین تہذیب سے واقف خوب جانتے ہیں۔دوسرے بفرض محال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مسیحیوں نے کبھی گناہ نہیں کیا تو یہ اعتراض پڑتا ہے کہ جب مسیحی گناہ کرتے ہی نہیں تو پھر یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ مسیح نے ہمارے گناہ اٹھا لئے جب گناہ ہی نہ ہوئے تو پھر اٹھایا کیا۔غرض کوئی پہلو ہی لے لو کفارہ کا مسئلہ غلط ہی ثابت ہوتا ہے اور عقل سے بالا نہیں بلکہ اس کےخلاف ہے۔پس جو طریق کہ مسیحی مذہب نے گناہوں سے نجات حاصل کرنے کا بتایا ہے۔بالکل باطل اور بیہودہ ہے اور کوئی ذی عقل اس طریق سے اپنے گناہوں کی معافی کا امیدوار نہیں ہو سکتا۔* * تشحيذ الاذہان مارچ تا مئی/جولائی تا ستمبر۱۹۱۰ء)