انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 275

سے پائے جاتے ہیں دیگر گورنمنٹوں کو جانے دو - ہندوستان کی گو ر نمنٹ کو ہی لے لو کہ جہاں مجرموں کی سزاؤں کے لئے اور مختلف قوانین بنائے گئے ہیں۔وہاں ساتھ ایک مد رحم کی بھی رکھی گئی ہے۔چنانچہ صو بوں کے افسروں اور پھروائسرائے رائے کا اختیار ہے کہ کسی مجرم کو خاص حالات کےماتحت معاف کردے چنانچہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص چیف کورٹ تک سے مجرم قرار دیا گیا اورمستوجب سزا ہوا۔لیکن لیفٹینٹ گورنر نے یا وائسرائے نے اس کے حالات پر غور کر کے قابل رحم سمجھا اور صاف معاف کردیا۔ابھی پیچھے لالہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ گو ر نمنٹ برطانیہ کی خاص مہربانی اور وزیر ہند کے حکم سے جلا وطنی کی سزا سے آزاد کئے گئے پھر بنگالہ کے سربر آوردہ لوگ جو محسن کشی کے خطرناک جرم میں قید کئے گئے تھے معاف کر دیئے گئے اور اپنے گھروں میں امن وامان سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔بیسیوں قاتل چھوٹ چکے ہیں اور طرح طرح کے مجرم رحم سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں خاص خاص موقعوں مثلا ًتاجپوشی ،تخت نشینی ، جشن وغیرہ پر بھی بہت سے قیدیوں کی سزا کو معاف کر دیا جا تا ہے۔پھر یہ کہنا کہ گورنمنٹ کیوں رحم نہیں کرتی کہاں تک درست ہو سکتاہے۔جہاں تک مجھے علم تھا کہ توبہ کے مسئلہ پر یہ اعتراض ہوا کرتے ہیں ان کا جواب تو میں لکھ چکاہوں۔اب مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں (انشاء اللہ ) کہ دیگر مذاہب یعنی مسیحی اور آریہ اگر توبہ کے مسئلہ کو قبول نہیں کرتے تو اس کی جملہ کیا تعلیم پیش کرتے ہیں اور وہ کہاں تک درست ہے۔گناہوں کی معافی کے بارے میں مسیحی تعلیم پہلے میں مسیحی تعلیم کو دیکھتا ہوں کہ وہ انسان کے پچھلے گناہوں کی معافی کی نسبت کیا فتویٰ دیتی ہے اور وہ ہماری تسلی کے لئے کون سا طریقہ اختیار کرتی ہے۔چنانچہ مسیحی کتب کو دیکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان کے گناہ سوائے اس کے کہ وہ مسیح کےکفارہ پر ایمان لائے نہیں معاف ہو سکتے اور جب تک وہ یہ یقین نہ کر لے کہ مریم کا بیٹا یسوع جواصل میں خدا ہی کا بیٹا تھا اور یہ کہ وہ انسان کے گناہ اپنے سر پر اٹھا کر مظلومیت کی حالت میں مصلوب ہؤاتب تک نجات غیر ممکن ہے۔لیکن اس میں بہت سی دقتیں ہیں اول تو یہ کہ مسیحی صاحبان کے اس دعوے کے ثبوت کے لئے سخت مشکلات ہیں۔سب سے اول جو مشکل پڑتی ہے وہ