انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 251

صریح متعارض ہے ضروری ہے کہ وہ الہٰی صفات کے بھی بر خلاف اور متعارض ہو اس لئے اگر کوئی مذہب خدا تعالیٰ کی طرف کوئی ایسی صفت منسوب کرے کہ جو ہماری فطرتوں کے بر خلاف اورمتعارض ہے تو ہم فورا سمجھ لیں گے کہ یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بالکل ناجائز اور منع ہے- اب جبکہ یہ طے ہوگیا کہ کل مذاہب کی بتائی ہوئی الہٰی صفات کو مد نظر رکھ کر ہم دیکھیں گے کہ انسانی خلقت کس طرح واقع ہوئی ہے۔چنانچہ غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی فطرت میں ایسی صفات ہیں کہ جن کو وہ فطر تاًنیک کہتا ہے اور بعض ایسے فعل ان سے سرزد ہوتے ہیں کہ ان کو وہ فطر تاً برا کہتا ہے چنانچہ پھر تجربہ اور مشاہدہ اس پر گواہی دیتا ہے کہ واقعی یہ فعل نیک ثمرات کالانے والا اور یہ فعل برے نتائج کا پیدا کرنے والا ہے مثلا ًجب ایک انسان دو سرے سے محبت اوراخلاص سے پیش آتا ہے اور کشادہ پیشانی سے ملا قا ت کرتا ہے تو دوسرے کے دل میں فطرتاً اس کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کی بہتری کا خیال اس کے دل میں جاگزین ہو جا تا ہے۔لیکن اگر بر خلاف اس نے کوئی شخص دوسرے سے کج خلقی سے پیش آتا ہے او ر اخلاقی حمیدہ کو ترک کر دیتا ہے اورانسانیت کو چھوڑ کر درندگی کا رنگ اختیار کرلیتا ہے تو لوگ اس سے کنارہ کرتےہیں اور الگ ہو جاتے ہیں۔اور اس کی محبت کو ترک کر دیتے ہیں اور اس سے جدائی اختیار کر لیتےاور اس کی عزت ان کے دلوں سے اٹھ جاتی ہے اور اس کی بجائے نفرت گھر کر لیتی ہے اور تمام علاقہ میں اس کی شکایات کی آواز بلند ہو جاتی ہے اور وہ لوگوں میں انگشت نما ہو جاتا ہے۔پس غور کرو کہ اس با اخلاق انسان کی محبت اور اس کج اخلاق کی نفرت کی کیا وجہ ہے اور کیوں ان کے ساتھ لوگوں نے تعلقات کو بڑھایا اور اس سے علیحدگی اختیار کی اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اس نے تو فطرت انسانی کے جذبات کو ملحوظ رکھا۔اور اس نے فطرت کو بدل دیا۔پھر اسی طرح ایک نفس جو برا سچا ہے او ر سچ کی وجہ سے خواہ اس کا نقصان بھی ہو جائے۔وہ اسے ترک نہیں کرتا اور جھوٹ کے قریب نہیں جاتا۔اس کی بات پر تمام لوگ اعتبار کرتے ہیں اورجو کچھ وہ کہتا ہے اس کا انکار نہیں کیا جاتا۔اور اس کی شہادتوں کی تصدیق کی جاتی ہے اور اس کوجھٹلانے والا خود جھوٹا سمجھا جا تا ہے۔اور اس کے بر خلاف وہ شخص جو اپنی فطرت کو بدلتا ہے اورجھوٹ کی نجاست کو استعمال کرتا ہے اور بچے کے بولنے کے پاک طریق کو چھوڑ دیتا ہے اس کا اعتباراٹھ جا تا ہے اور غیر تو غیر خوراس کے یار و غمگسار تک اس کی باتوں کو خلاف واقعہ سمجھتے ہیں۔اور