انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 213

کر دیتی ہے اور وہ یہ کہاالحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ میں خدائے تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ میں تمام عالموں کا رب ہوں یعنی خواہ کسی ملک کا باشندہ ہو یا کوئی زبان بولنے والا ہو یا کیسے اخلاق سے ہی متصف ہو سورج اور چاند اور دیگر ستارے اور پانی اور ہوا اور زمین اور آگ اور جمادات اور نباتات میں نے ہر قسم کے لوگوں کی ربوبیت کے لئے پیدا کر دیئے ہیں۔کسی سے بخل نہیں کیا کیونکہ میں رب العالمین ہوں سو اسی طرح صاف بات ہے کہ جب سب دنیا میری بنائی ہوئی ہے اور میں نے ان کے لئے جسمانی آسائش اور آرام کے سامان مہیا کئے ہیں تو کیا ان کی روح لئے کچھ فکر نہ کروں گا سو جیسا کہ میں جسمانی عالم کا پرورش کرنے والا ہوں ایسا ہی روحانی عالم کا بھی ہوں جیسا کہ فرمایا کہ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ (الملک ۳۱)یعنی ان سے کہو کہ اگر تمہارا پانی سوکھ جائے تو کون ستھرا پانی عنایت کر تا ہے یعنی جبکہ تم کو اس جسمانی زندگی کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا نازل کرتا ہے تو کیا روحانی زندگی جو ابدی ہے اس کے لئے الہام الہیٰ یا پانی نازل نہ کرے گا۔پھر دوسری جگہ فرمایا کہ قل الروح من امر ربی (بنی اسرائیل :۸۶) یعنی کہہ دے کہ یہ الہام ووحی جو ہے یہ تو ربوبیت کی صفت کے ماتحت لازمی ہے اور ربوبیت سے ہی تعلق رکھتا ہے۔پس جسمانی ربوبیت کو دیکھتے ہوئے اس کے کیوں منکر ہوتے ہو اور پھر قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ ان من امة الا خلافيها نذير (فاطر: ۲۵) یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ہم نے اپنا مأمور نہ بھیجا ہوسواس آیت میں خدائے تعالیٰ نے بدلا ئل ثابت کیا ہے چونکہ ربوبیت عام ہے اس لئے جسمانی رنگ میں بھی عام ہے اور روحانی رنگ میں بھی یعنی ہر ایک قوم کے باشندوں کو جو الہام الہیٰ پانے کے مستحق ہوں الہام کیا جاتا ہے یعنی وہ رحمانیت ورحیمیت کے مقتضٰی کو پورا کرتے ہوئے يوم الدین میں پاس ہو جائیں تو ان کے لئے الہام الہٰی کا دروازہ کھلا ہے اور چونکہ یہ ربوبیت ہر زمانہ کیلئے ہے اسی لئے اسلام نے ہر زمانہ میں ایک مجد وبتلایا ہے تاکہ لوگ الہام کو ہر زمانہ میں دیکھتے اور آزماتے رہیں۔پس بتاؤ کہ کیا وہ مذہب جو یہ بتاتا ہے کہ میں نے کسی زمانہ میں اپنے پیرؤوں کو خدا سے ملایا تھا سچا ہو گا؟ یا وہ جو کہتا ہے کہ میں ہروقت د کھا سکتا ہوں؟ اور کیا وہ مذہب جو خدائے تعالیٰ کی سب نعمتوں کو ہر زمانہ اور ہر مکان کے لئے عام کرتا ہے محبت کے قابل ہے یا وہ جو خد اکواب معطل مانتا ہے گویا کہ اب وہ بہرہ ہے۔پسں اب میں گنجائش کے مطابق کافی طور سے لکھ چکا ہوں کہ اسلام ہی ہے جو انسان اور خدا کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کے دل میں اس خالق حقیقی کی محبت کا فوارہ جاری کر دیتا '