انوارالعلوم (جلد 1) — Page 210
اثر شروع کرتی ہے اور وہ شخص جو ربوبیت کے اسرار پر واقفیت حاصل کرلیتا ہے خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اور اس کا عشق اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور تمام دنیا کے تعلقات توڑ کر وہ بس اسی کا ہی ہو جا تا ہے اور ہر وقت اسی کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔پس جبکہ ایسی حالت اس کی ہوجاتی ہے تو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں الرحیم بھی ہوں یعنی جو میری راہ میں کوشش کرتے ہیںان کی خاص طور سے مدد کرتا ہوں چنانچہ فرمایا ہے کہ بالمؤمنین رؤف رحیم( التوبہ :۱۲۸) اورایک دوسرے موقعہ پر اس کی اور بھی تشریح کی ہے کہ حقا علينا نصر المؤمنين (الروم:۴۸)یعنی جب صفت ربوبیت سے انسان کا دل خداہی کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کی رحمانیت کو دیکھ کر وہ دنیا سے قطع تعلق کر کے ہمارا ہی ہو جاتا ہے تو اس وقت ہم اس پر صفت رحیمیت کا پر تو ڈالتےہیں اور وہ ہمارے حضور میں محبوب ہو جاتا ہے اور اس وقت کے بعد اس کی مدد اور دستگیری ہم پر فرض ہو جاتی ہے اور ہم اس کو محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر میدان اور وادی میں اس کو فتح دیتے ہیں اور اس کے مخالفین کو ہلاک کرتے ہیں اور اس کے دوستوں کو عزت اور اقبال دیتے ہیں اور جو کوئی اس کا دشمن ہو وہ ہمارا دشمن ہو جا تا ہے اور ہماری غیرت اس کے لئے بہت بڑھ جاتی ہے۔اور ہم اس کے لئے آسمان سے برساتے ہیں اور زمین سے نکالتے ہیں اور گویا یہ زمین و آسمان ہی نہیں رہتا بلکہ ایک اور زمین اور نیا آسمان ہم اس کے لئے پیدا کر دیتے ہیں اس کے بعد خدائے تعالیٰ نے ملك يوم الدین کی صفت بیان فرما کر بتایا ہے کہ جب وہ شخص ہمیں اس قدر پیارا ہوجاتا ہے تو پھر ہم اس کی شان اور مرتبہ کے مطابق ایک فیصلہ کرتے ہیں کہ جس سے اس کے مخالفین ہلاک ہو جاتے ہیں اور فتح و نصرت ان لوگوں کے نام پر ہوتی ہے چنانچہ جیسا موقعہ ہو جسمانی طورسے خوار روحانی طور سے ان کو دنیا کا مالک بنا دیا جاتا ہے چنانچہ ایک اور جگہ پر فرمایا کہ ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا فَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ(الحج ۵۷-۵۸) ، یعنی جب کہ انسان ترقی کرتاکر تا ہمارا پیارا ہو جاتا ہے تو ہم اس کے اور اس کے مخالفین کے لئے ایک فیصلہ کا دن بناتے ہیں جس میں کہ ہم خاص طور سے اپنا جلال ظاہر کرتے ہیں اور ان کے درمیان فیصلہ کرتے ہیں چنانچہ جوہمارے نیک بندے کے احباب ہوتے ہیں وہ تو اس دن بڑے امن اور چین کی حالت میں ہوتےہیں اور مخالفین خائب و خاسر ہو کر غم و غصہ اور ناکامی اور ذلت کی آگ میں جلتے ہیں اور یہ دنیاہی ان کے لئے دوزخ ہو جاتی ہے۔اور مومن اسی دنیا میں جنت کا مزہ چکھ لیتے ہیں چنانچہ فرمایا کہ لا