انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 200

ضرور ہے کہ باقی دونوں خدا بھی مرے رہے ہوں کیونکہ ایک تین ہے اور اگر وہ نہ مرے ہوں تو دوخدا باقی رہ گئے ہوں گے اور اس طرح خداؤں میں جدائی لازم آئے گی جو کہ تین ایک اور ایک تین کے مسئلہ کے بر خلاف ہو گا اور اگر کہا جائے کہ نہیں اصل میں خدا تینوں ہی زندہ رہے تھے وہ ایک او رہی کاروائی تھی تو پھر بھی کفارہ باطل ہو جا تا ہے اور خدا نعوذ باللہ بہانے باز ٹھہرتاہے۔کیا یسوع عادل ہے؟علاوہ ازیں کفار کے مسئلہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تو عادل ہےاور یسوع عادل نہیں پس یا خد اناقص ہوا ایسوع - علاوہ ازیں دونوں کی مختلف صفات مان کر دو وجود الگ الگ ماننے پڑتے ہیں کہ یہ خدا ہے جو عادل ہے اور یہ یسوع ہے جو محبت ہے تو اس طرح ایک تین اور تین ایک نہیں رہتا اور خداؤں میں فرق لازم آتا ہے۔علاو ازیں کفاره پر میں بھی ایک اعتراض ہے کہ اگر کفارہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی عمل کی ضرورت ہے تو وہ کفارہ کفارہ ہی نہ رہا کیونکہ اس صورت میں مسیح کی موت سے ہم کو کچھ فائدہ نہ ہوا۔اور اگر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تو کفار سے گناہ پھیلیں گے نہ کہ رکیں گے اور اس طرح کفارہ گناہ پھیلانے والا ثابت ہو گا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے گناہ ہوتے ہی نہیں تو یہ بھی غلط کیونکہ جس قدر گناہ یورپ میں ہو رہا ہے اس قدر نہ پہلے ہوانہ اب غیر قوموں میں ہے کہاجاتاہے کہ ساٹھ فیصدی حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں پھر کفارہ کا کیا اثر ؟ کیا یسوع کامل نمونہ تھا یسوع کے کفارہ پر ایمان لا کر دنیا نے گناہوں سے کیا پچنا ہے جو کچھ انجیل پیش کرتی ہے اس سے تو خود یسوع پربھی سوسو اعتراض واردہوتے ہیں اور وہ قابل تقلید کیا قابل نفرت ٹھہرتا ہے۔اور اس طرح مسیحیوں کا یہ کہنا بھی کہ دنیا کونمونہ کی ضرورت ہے اور یسوع نمونہ بن کر آیا غلط ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے نمونہ کو دیکھ کر تو اوربھی شکوک شروع ہو جاتے ہیں کہ جب خدا خودگناہوں سے نہیں بچ سکتا تو بندے بیچارے کس حساب میں وہ خود بھی بیچارہ کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہو۔پس یا تو اسکو جھوٹا قرار دو یا گناہ گار دونوںصورتوں میں قابل تقلید نہیں۔مسیحی صاحبان یہ بھی کہتے ہیں کہ چونکہ گناه آدم کے درثہ میں آیا ہےاو ریسوع کا باپ نہ تھا اس لئے معلوم ہوا کہ وہ گناہ گار نہیں ہو سکتا تھا اس کا جواب اول تو یہ ہےکہ یسوع کی لائف اس پر خوب روشنی ڈالتی ہے دوسرے سوال یہ ہے کہ آدم میں گناہ کہاں سےآگیا اگر آدم میں پیدا ہو سکتا تھا تو دوسرے آدمیوں میں اسے پیدا ہوتے کیا ہرج ہے چوتھے یہ کہ اس سے مسیح کی فضیلت نہیں نکلتی بلکہ الٹا نقص نکلتا ہے کیونکہ توریت ہم کو بتاتی ہے کہ اصل گناه