انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 197

چنانچہ پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۸ میں ہے کہ ملک صدق کا بادشاہ روٹی اور مے نکال لایا اور وہ خدا تعالیٰ کا کاہن تھا اور ابراہیم نے اسے دہ یکی بھی دی زبور میں داؤد کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ خداوند نے قسم کھائی ہے اور وہ کبھی نہ پچھتائے گا تو ملک صدق سالم کی طرح ابد تک کاہن ہے\"پھر عبرانیوں میں پولوس رسول مسیح تک کی نسبت کہتا ہے کہ ’’وہ خدا کی طرف سے ملک صدق کی مانندسردار کاہن کہلا یا ‘‘پھر اسی جگہ اس کی نسبت لکھا ہے کہ’’ وہ پہلے اپنے نام کے موافق راستے کابادشاہ ہے اور پھر شاہ سالیم یعنی سلامتی کابا د شاہ یہ بےباپ بے ماں بے نسب نامہ جس کے نہ دنوں کاشروع نہ زندگی کا اخیر مگر خدا کے بیٹے سے مشابہ ٹهہرا‘‘ان عبارات سے تو ملک صدق سالیم کی شان زیادہ معلوم ہوتی ہے وہ ازلی ابدی ہے اور بے ماں باپ کے ہے حالانکہ یسوع کا باپ اگر یوسف نہیں تو ماں مریم تو ضرور تھی مگر وہ بن باپ بن ماں کے اور پھر ازلی ہمارے خیال میں تو وہ ابنیت کازیادہ مستحق ہے۔سوم یہ کہ مسیح خوشی سے مرنا نہ چاہتا تھا کیونکہ انجیل میں ہے کہ’’ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ میری خواہش کے مطابق ہو\"متی باب ۲۶آیت ۳۹۔اب اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ یسوع کی اپنی مرضی نہ تھی کہ وہ صلیبی موت مرے جس سے معلوم ہوا کہ اس نے کسی کے بدلے میں اپنی جان نہیں دی بلکہ قہرد رولش بر جان و رویش پر عمل کرتے ہوئے مرادو سرے یہ کہ خدا نے زبردستی اس کو دار پر کھنچوایا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ \"تیری خواہش کے مطابق ہو \" پس اس طرح خدا ظالم ٹھہرا کہ اس طرح بے وردی سے ایک بے گناہ کو اور پھر اپنے بیٹے کو جو اس کی بادشاہت میں اور خدائی میں بھی شریک تھا۔یوں مرواریا۔شاید اس خیال سے کہ ایک شریک تو راستے سے ہٹے۔چہارم سوال یہ کہ سب کچھ ہی مانا مگر یہ ماں سے ثابت ہوا کہ مسیح واقعی صلیب پر مر گیا تھا کیونکہ انجیل اس کے پرخلاف کہتی ہے جیسا کہ میں نے لکھا ہے یعنی حاکم وقت چاہتا تھا کہ وہ بچ جائے۔پھانسی دینے والا اس کااپنا مرید تھا۔قبر سے اٹھنے کے بعد وہ مریدوں کے پاس گیا وہ ڈر سے کہ کہیں بھوت نہ ہو مگر اس نےاپنے زخم ان کو دکھائے۔پھر ان کا شک دور کرنے کے لئے ان کے ساتھ روٹی کھائی اور لوگوں سےچھپتا چھرا۔اگر وہ جی اٹھا تھا اور اب پھر خدا ہو گیا تھا تو لوگوں سے اس قدر ڈر کیوں تھا؟ غرض جب تک یہ سوال حل نہ ہو جائیں مسیح صاحبان کا کوئی حق نہیں کہ وہ نجات کو ثابت کرنے بیٹھیں خیر اب میں اس مضمون پر مسیحی صاحبوں کے جواب دینے کے بغیر ہی کچھ روشنی ڈالتاہوں۔