انوارالعلوم (جلد 1) — Page 193
الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ ( آل عمران :۱۳۵) پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ انسان ٹوٹے میں ہے مگر ساتھ ہی آپ نے یہ نہ دیکھا کہ الا الذين امنواوعملوا الصلحت وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر (الحصر: ۴) پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہے کہ انسان کا دل وسوسہ پیدا کرتا ہے یہ بالکل غلط ہے ثبوت دواور پھر یہ نہ دیکھا کہ اليوم یئس الذين كفروامن دينكم (المائده : ۴) اور پھر ایک جماعت کے لئے رضی الله ورضوا عنہ بھی قرآن شریف میں ہے اور پھر شیطان کی نسبت فرماتا ہے کہ ان عبادي ليس لك عليهم سلطان وكفى بربك وکیلا(بنی اسرائیل :۶۶) یعنی نفسانی وساوس انہی لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جوگندے اور حق سے دور ہوں نیک لوگ اس سے بالکل پاک ہوتے ہیں پس اسلام نے ہرگز انسان کو گناہوں کا پتلا قرار نہیں دیا بلکہ ایک پاک مخلوق جو کہ جب راہ راست سے پھر جاتی ہے تو ناپاک ہو جاتی ہے اس طرح سے صاحبان کا وہ اعتقاد بھی برباد ہوجاتا ہے کہ گناہ انسان کو ورثہ میں ملا ہے۔گناہ کی سزاپھرپادری صاحب کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ ہم کو گناہ سے نفرت ہے اس لئےاس کی سزا ضروری ملنی چاہئے اور چونکہ سزا نہ دینے سے عدل میں فرق آتا ہےاس لئے اس کی سزا ضرور دینی چاہئے۔یاد رہے کہ انسانی فطرت بخشش کو زیادہ چاہتی ہے جیسے کہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بنی نوع انسان ایک دوسرے کے قصوروں کو بخوشی بخش دیتے ہیں اورلاکھوں خطاؤں پر چشم پوشی کر دیتے ہیں پس اگر خدائے تعالیٰٰ ہر ایک ذرہ ذرہ سے گناہ کو پکڑے تو بڑااعتراض آئے گا کہ بڑا سخت اور ظالم ہے کیونکہ دنیا میں بھی گناہوں پر چشم پوشی نہ کرنے والےلوگ ظالم ہی سمجھے جاتے ہیں ور نہ کسی کو حد سے زیادہ تکلیف دینے والے لوگ تو کم ہی ہوتے ہیں اور خدائے تعالیٰ ٰپر یہ بھی اعتراض آئے گا کہ کیسا سخت گیر ہے کہ عدل کی صفت پر تو چلتا ہے کہ میرے بندوں میں ہے تو مجھ میں کیوں نہ ہو مگر جو رحم اور بخشش کی صفت ہے اس سے بکلی محروم ہے تو ایساخد اگویا اپنی پیدا کردہ مخلوق تباہ کر کے خوش ہوتا ہے۔اسلام اس کے بر خلاف بتاتا ہے کہ او یوبقھن بما کسبوا و یعف عن کثیر ( الشور ی : ۳۵) یعنی خدائے تعالیٰ چاہے تو گناہ گاروں کوہلاک کردے مگر وہ اکثر معاف کردیتا ہے۔عدل کو مان کر مسیحیت کا خاتمہعلاوہ ازیں اگر عدل صفت مانا جائے گا تو پھر مسیحیوں کامذہب برباد ہو جائے گا سنئے یسوع عدل کی مٹی خراب کرتا