انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 192

ذرہ میں صراط مستقیم کی شناخت سرایت کر گئی ہے پس تمہارے ہر ایک کام میں اب نیکی ہی نیکی ہوگی۔اسی طرح مذہب اسلام کا دعوی ٰہے کہ کل انبياءؑ بالکل پاک اور نیک تھے چنانچہ ہمارےآنحضرت ﷺتو عام دنیا کو للکار کر فرماتے ہیں کہ فقد لبثت فیکم عمرا(یونس ۱۷)یعنی میں تم میں ایک عمر بسر کر چکا ہوں کیا تم نے مجھ میں کچھ گناه د یکھا ہے کہ اب مجھ کو جھوٹا سمجھتے ہو چنانچہ کسی سے جواب نہ بن گیا۔اسی طرح امت محمدیہ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں اس قسم کے لوگ پیداہوئے ہیں اور اس وقت بھی ہیں چنانچہ ابھی ایک شخص نے خدا کی طرف سے مامور ہو کر ساری دنیاکو پکار ا کہ فقد لبثت فیکم عمرا لیکن کوئی مقابلہ نہ کر سکا غرض کہ اسلام کا دعوی ٰہے کہ میں نہ صرف پاک اور ناجی لوگ ہی پیدا کرتا ہوں بلکہ ایسے لوگ بھی میری اتباع سے پیدا ہوتے ہیں کہ جوانبیاء ؑ کا درجہ رکھتے ہیں اور الہام الہٰی سے مشرف ہوتے ہیں پس با و جو د اس دعویٰ کے پادری صاحب کا کیا حق ہے کہ وہ کہیں کہ کوئی نہیں جو اپنے آپ کو شریعت پر چل کر گناہوں سے پاک قراردیا ہو حالانکہ مسلمانوں میں ایسے لوگ ہو گذرے ہیں اور ہر زمانہ میں آتے ہیں۔قرآن شریف انسان کو پاک قرار دیتا ہے اور پھر پادری صاحبان کا کہنا کہ خدائے تعالیٰ نےقرآن شریف میں آدم ؑکی نسبت بھول کالفظ استعمال کیا ہے اس میں کیا حرج ہے۔کاش کہ آپ اتنا سمجھتے کہ گناہ اور نسیان میں بڑا فرق ہے۔پھر آپ نے فرمایا ہے کہ قرآن شریف میں ہے کہ انسان میں عزم نہیں ہے افسوس اگر آپ فاذاعزمت فتوكل على اللہ(آل عمران :۱۶۰) کو دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ وہ بدوں کی نسبت ہےنیک لوگ بڑے عزم والے ہوتے ہیں۔پھر یہ کہنا بھی غلط ہے کہ انسان بے صبر پید اکیا گیا ہے کیونکہ دوسری طرف بشر الصابرین بھی تو قرآن شریف میں ہے کہ تیرے پیروؤں میں ایک گروہ صابرین کاہے۔پھر سورۃ اعراف میں ہے کہ وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبروا(الاعراف:۱۳۸) مومنون میں ہے کہ جزيتهم اليوم بما صبروا( المؤمنون:۱۱۲) فرقان میں ہے کہ اولٰئک یجزون الغرفة بما صبروا (الفرقان :۷۶) قصص میں ہے کہ یؤتون اجرهم مرتين بما صبروا (القصص:۵۵) باوجود اس قدر شہادتوں کے پھر کہنا کہ انسان بے صبر پیدا کیا گیاہے نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہاں بھی نیکوں اور بدوں کی ہی تفریق ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں انسان کو ظلم پیشہ اور جاہل قرار دیا ہے مگر آپ کی نظر وہاں نہ پڑی جہاں کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ