انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 175

وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔پھر یہاں کی سلطنتوں کی حفاظت سپاہی کرتے ہیں مگر بر خلاف اس کے الٰہی گورنمنٹ اپنے سپاہیوں کی خود حفاظت کرتی ہے اوریعصمک من الناس (المائدہ:۶۸) کی خوش آئند آواز انہیں سنائی جاتی ہے وہ زندہ رہیں یا فوت ہو جائیں دونوں حالتوں میں فائدہ میں رہتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فيقتلون ويقتلون لیکن وہ لوگ جو اس طرح خدا کے ساتھ تجارت کریں اور اس کی فوجوں میں داخل ہو جائیں ان میں دلیری بھی چاہئے اور چاہئے کہ وہ دو سروں کوماریں اور آپ مارے جائیں اور اپنی جانیں لفظاً نہیں بلکہ عملاً خدا کے سپرد کریں۔پھر فرماتا ہے کہ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ یعنی یہ سوداکر کے جو انعام اور نفع خدائے تم کو دینے کا وعدہ کیا ہے کیا یہ سچا ہے یا تو یا تو خدا تعالیٰ یہاں اپنےو عدہ کی نظیریں بتاتا ہے کہ ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ میں نے تین بڑی قوموں سے وعدے کئےتھے تو کیا وہ غلط نکلے؟ جب نہیں تو پھر تم کیوں ڈرتے ہو جب خدا کی عادت ہے کہ وعدوں کاسچاہےاور جو کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔تو پھر یہ وعدہ جو تم سے کیا گیا ہے کیوں پورانہ ہو گا کیا خدا سے زیادہ کوئی اور بھی ہے جو و عدوں کا سچا او ر پو را ہو۔پس تم اپنی باتوں اور مالوں کو اس کے سپرد کرو۔وہ وعدہ کرتا ہے کہ تم کو اس تجارت سے بہت فائدہ پہنچے گا اور تم ابد الآباد کی زندگی اور لا انتہا مال پاؤگے۔چنانچہ خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ یہ وعدہ میں نے کیا ہے اور بالکل حق اور درست کیاہے یعنی قسمی طور سے ہے اور مومنوں کا حق ہے کہ اس سے وہ وعدہ پورا کروائیں اور یہ پہلے اہل توریت سے ہو چکا ہے یعنی موسیٰ سے بھی ایک وعدہ ہوا تھا کہ ہم تیری قوم کو فرعون کے ہاتھوں سےنجات دیں گے اور تم کو بڑی ترقی دیں گے۔چنانچہ جب حضرت موسیٰ مبعوث ہوئے ہیں تو اس وقت بنی اسرائیل پر بہت ظلم ہوتے تھے۔یعنی کل قوم کو آدھادن اینٹیں بنانی پڑتی تھیں اور وہ اس ملک میں نہایت ذلت سے رہتے تھے مگر جب حضرت موسی نے آکر ان لوگوں کو خبردی کہ اب خدا کاارادہ تم کو چھڑانے کا ہے اور وہ اب تم کو آزاد کرے گا اور پھر جا کر فرعون کو کہا کہ تو اس قوم کوچھوڑ دے تو اس کا نتیجہ ایسا خطرناک ہوا کہ پہلے تو صرف آدھادن انہیں کام کرنا پڑتا تھا اب فرعون نے یہ خیال کر کے کہ یہ لوگ آدھا دن جو خالی رہتے ہیں اس میں مختلف خیالات اٹھتے رہتے ہیں اورآزادی کی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔آؤ ان کو سارے دن کام پر لگائے رکھو۔حکم دیا کہ آج سے یہ لوگ اینٹیں پکانے کے لئے لکڑیاں بھی خود ہی اکٹھی کیا کریں اور نصف وقت _