انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 160

کہ اگر آپ کے لئے ایک سونے کا مکان ہو یا آسمان پر چڑھ جائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔مگر صرف آسمان پر چڑھنا کافی نہیں بلکہ وہاں سے ایک ایسی کتاب بھی لے آئیں جس کو ہم پڑھ سکیں۔(خدا تعالیٰ فرماتا ہے )کہ ان کو کہہ دے کہ میں کیا ہوں صرف ایک بشر رسول ہوں۔یعنی بشررسول سے تو ایسے صاف اور صریح کام نہیں ہوتے جو خلاف سنت بھی ہوں اور خلاف بشریت بھی ہوں۔اب صاف ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم ﷺایسا صاف معجزہ دکھا دیتے تو کل کے کل کفارمسلمان ہو جاتے۔بلکہ کل دنیا کے لوگ آپﷺ پر ایمان لے آتے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ معجزات ایسے صاف نہیں دکھاتا کہ جن سے کل دنیا مان جائے۔اور ایمان لانا صدق کی بناء پرنہ رہے اور ہر کاذب و صادق کو زبردستی نبی کی طرف جھکا دیا جائے۔اس لئے وہ معجزات میں ایسےمتشابہات بھی رکھتا ہے جن سے سعید لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے لوگ الٹا اور بھی بیزار ہوجاتے ہیں۔اور صریح پیشگوئیوںاور محکمات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔جس سے نیکوں اور بدوں میں ایک بیّن فرق ہو جاتا ہے۔اور دنیا دیکھ لیتی ہے کہ کون سچائی کا دلدادہ ہے اور کون جھوٹ اور فریب کا شیدا۔چنانچہ یہی وجہ تھی کہ با و جو ہزاروں معجزاات اور آیات کے بہت سے خبیثوں نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی اور ان کو نہیں مانا۔اور بجائے محکمات کے متشابہات کی طرف گئے۔اگرتعلیم پر ان کی نظر پڑی تو متشابہات پر اور اگر آیات پر انہوں نے غور کیا تو متشابہات کو مد نظر رکھا۔پس اس وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے اور سچائی کو دیکھ نہ سکے مگر جنہوں نے متشابہات کی پرواہ نہیں کی اور ایمان بالغیب کے مسلم مسئلہ پر عمل کیا وہ ان تمام مشکلات سے بچ ر ہے اور ہر قسم کے ابتلاؤں سےمحفوظ رہے۔انہوں نے اصول کو دیکھا اور فروع کو ان کے مطابق کیا۔مگر بر خلاف اس کے کفار نے چاہا کہ پہلے چھت تیار کریں اور پھر بنیاد رکھیں گے اور وہ ناکامیاب ہوئے۔پس اصل شناخت کسی نبی کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ کثرت کی طرف نظر کی جائے اور متشابہات کو نظرانداز کیا جائے۔کیونکہ جب تک ایسانہ کیا جائے کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔اور راستی اور حق پسندی بھی یہی چاہتی۔ہے کہ جو حق ثابت ہو گیا ہے اس کو قبول کیا جائے اور جو سمجھ میں نہیں آتا اس کے لئے انتظار کیا جائے اور جو شخص دس محکمات پیشگوئیوں کو نہیں مانتا اس سے کیا امید ہو سکتی ہے کہ ایک پیشگوئی جو متشابہات سے ہے اگر پوری ہو جائے تو اس کو مان لے گا۔بلکہ غالب یقین ہی ہے کہ وہ اس سے بھی کوئی بہانہ بنا کر چھٹکارا کر لے گا۔پس سچا اصول یہی ہے کہ انسان ہروقت قرآن شریف کی اس آیت کو مد نظر رکھے کہ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌؕ | 2