انوارالعلوم (جلد 1) — Page 158
کی سچائی پر مہر لگا رہا ہے۔کہ لا یفلح السّاحر حیث اتٰی اور دو سرا الہام کہ قرب أجلک المقدرولا نبقى لك من المخزيات ذكرا۔اب اس کے بعد میں اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدسؑ کی پیشگوئیوں پر جو اعتراضات کا سلسلہ مخالفین نے شروع کیا ہے وہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے اور من پسندی کے لحاظ سے ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس قسم کے اعتراض کریں۔کیونکہ بعض ایسی پیشگوئیوں پر اعتراض کرنا جو متشابہات سے ہوں راستی کا شیوہ نہیں۔کیونکہ پیشگوئیوں کی تصدیق اس طرح نہیں ہواکرتی کہ تمام کی تمام پیشگوئیاں بالکل صاف اور سیدھے رنگ میں پوری ہو جائیں اور ہر ایک شخص ان کو سمجھ سکے۔چنانچہ قرآن شریف نے اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیا ہے۔اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔کیونکہ قرآن شریف کے اول ہی صفحہ پر یہ آیت تحریر ہے کہ ھدی للمتقین۔الذین یؤمنون بالغیب یعنی قرآن شریف میں ہدایت ہے ان متّقیوں کے لئے جو غیب کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں یعنی وہ یہ نہیں چاہتے کہ وہ تمام آیاتِ الہیہ کی طرح ان کے آگےکھول کر رکھ دی جائیں، اور الٹی سیدھی طرح سے ان کو پیش کیا جائے کہ کوئی ذی روح بھی ان سے انکار نہ کر سکے۔بلکہ جب بعض باتیں دیکھتے ہیں جن سے مذہب کی سچائی ثابت ہوتی ہے تو پھر وہ اسی سے اندازہ لگا کر باقی غیب کی باتوں پر ایمان لے آتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ سنتِّ الہیہ کے مطابق بعض پیشگوئیاں یا بعض احکام متشابہات ہوتے ہیں جو کہ ممکن ہے کہ ایک کی سمجھ میں نہ آئیں اور دو سرے کی عقل ان کو پالے اور ان کی سچائی کی تصدیق کرے۔پس خداوند تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو متقی قرار دیتا ہے جو کہ عقل سے کام لیتے ہیں۔اور ہر ایک بات کو روز روشن کی طرح صاف دیکھنا ضروری نہیں سمجھتے ، اور اگر ہر ایک بات ایسی صاف ہو جایا کرے کہ اندھے سے اند ها بھی اس کو سمجھ لیا کرے تو دنیا میں کفروارتداد کا سلسلہ ہی نہ رہے۔حالانکہ قرآن شریف سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ کفار ہمیشہ دنیاپر رہیں گے۔اور خودزمانہ کی رفتار اس بات کو ثابت کرتی ہے اور اگر کسی نبی کے زمانہ میں کل کی کل دنیا مسلمان ہو سکتی تھی۔تو اس بات کے سب سے زیادہ مستحق ہمارے نبی ﷺ تھے جو تمام نبیوں کے سردار اور خاتم النّبیّن ہیں۔مگر جب ان کے زمانہ میں ایسا نہیں ہواتو پھر کسی اور نبی کی نسبت ہم کب یہ گمان کر سکتے ہیں کہ اس کے زمانہ میں تمام کی تمام دنیا ایمان لے آئے گی اور کفر کا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔اور اگر کوئی شخص ایسا گمان کرتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺکی صریح ہتک کرتا ہے۔اور آیت شریفہ و جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیمة