انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 153

تڑپ اور غم اور ہمدردی اور سچ پر لانے کے لئے کوشش کو ملاحظہ کریں گے تو خور بخور ان کے دل سے تا اللہ لقد اٰثرک اللہ علینا و ان کنّا لخطئین(یوسف: ۹۴) کی آواز آئے گی اور جب وہ شعر پڑھیں گے کہ حسين دفاه القوم في دشت کربلا وکلمنی ظلما حسين آخر ایک حسین ؑوہ تھا جس کو دشمنوں نے کربلا میں قتل کیا اور ایک وہ حسین ہے جس نے مجھ کو ظلم سے مجروح کیا کمثلک مع علم بحالي و فطنه عجبت له يبغي الهدى ثم يأطر تیرے جیسا آدمی میرے حال سے واقف اور دانا تعجب ہے کہ وہ ہدایت پر آکر پھر راہ راست چھوڑدے قطعت ودادا قد غرسناہ فی الصباء و لیس فوادي في الوداد يقصر تونے اس دوستی کو کاٹ دیا جس کا درخت ہم نے بچپن میں لگایا تھا مگر میرے دل نے ردی میں کوئی کوتاہی نہیں کی وو اللون و و واللہ ان اجعل عليك مسلطا فان یدی عمّا یجاذیک تقصر اور قسم ہے خدا کی اگر میں مجھ پر مسلط کیا جاؤں تو میرا ہاتھ تھے سزا دینے سے قاصر رہے گا تو ان کا دل یوسفؑ کے بھائیوں سے بھی کم درد محسوس نہ کرے گا۔مگر اصل بات تو یہی ہے کہ جس کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت پا سکتا ہے ان کی نسبت بیشک خدا کی طرف سے ایک بشارت ہےاور حضرت اقدسؑ نے بارہا اس کا ذکر بھی کیا ہے مگر نامعلوم کہ وہ کیو نکر پوری ہو کیونکہ حضرت اقدسؑ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کو موت کے وقت اطلاع دی جائے گی کہ حق پر نہیں ہیں۔اور اس بات پر مخالفین کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔کیونکہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ فرعون نے مرتے وقت کیا کہ اٰمنت انہ لا الہ الا الذی اٰمنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمینیونس : (۹۱) تو اس کا ثبوت سوائے اس کے کیا ہے کہ خدا کے کلام میں یوں آیا ہے پس اگر کوئی شخص حضرت اقدسؑ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے کہ پہلے اس بات کو سوچ لے کہ یہ اعتراض خود کلام پاک قرآن شریف پر بھی وارد ہو گا۔پس اصل بات یہ ہے کہ کلام اللہ کے کئی حصے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں جو دشمنوں پر حجت قائم کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔اور ایک ایسی ہوتی ہیں جو اپنوں کی اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔اور تیسری وہ جو ایمان بالغیب کے لئے ہوتی ہیں۔مثلاً بہشت کےمتعلق جو بعض وعدے قرآن و احادیث میں کئے گئے ہیں ان پر کوئی مخالف اعتراض نہیں کر سکتاکیونکہ وہ اس تیسرے حصہ میں ہیں اور اس کی مثالیں ہر ایک قوم اور مذہب کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔پس اگر مولوی صاحب موصوف اپنی وفات کے وقت ایمان لے آئیں تو اس پر دشمنوں