انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 151

۔تاکہ میرے ہی بیٹا ہو گا تو پوتے پر کیوں لگاتے۔سمجھتے کہ آئندہ بیٹا ہو گا اور وہ الہام پورا ہو جائے گا۔پس صاف ظاہر ہے کہ وہ الہامات کسی آئندہ نسل کے لڑکے کی نسبت تھے۔خواہ پوتا ہو یا پڑ پوتا ہو یا کچھ مدت بعد ہو۔اب بعض لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایک شخص جس کے چار لڑکے موجود ہوں کہہ سکتا ہے کہ میرےایک لڑکا ہو گا۔اور چونکہ اس کے اولا و موجود ہے اس لئے اس کے کوئی نہ کوئی تو بچہ ہو گاہی پس کیا ہم اس طرح اس کو نبی مان لیں۔اس لئے یہ بات بھی یاد رہے کہ اول تو ہم اس کی دیگر نشانیوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس کی نبوت پر گواہی دیتی ہیں یا نہیں اگر واقعی اس کے ساتھ ایسے نشانات ہیں۔جن سے ایک شخص نبی قرار دیا جاسکتا ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ نبی ہے۔پیشگوئیاں بعض بڑے جلال کی ہوتی ہیں۔بعض معمولی درجہ کی ہوتی ہیں اور زرا ذرا سے واقعات کی بعض اوقات نبی کو خبردی جاتی ہے تو اس پر اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اور دوسرے یہ کہ حضرت اقدسؑ نے صرف یہ پیشگوئی نہیں کی کہ میرے ایک بیٹا ہو گا بلکہ اس کے ساتھ شرائط رکھے ہیں اور وہ یہ کہ وہ حلیم ہو گا نیک فطرت اور پاک ہو گا۔اس زمانہ کے لوگوں میں سے ایک خاص امتیاز رکھتا ہو گا۔اور یحییٰ کی خصلتوں پر ہو گا۔اور سب سے بڑی شرط یہ کہ وہ اس جلال کے ساتھ آئے گا کہ گویااس کے زمانہ میں خداخود زمین پر اتر آئے گا۔پس اگر کوئی شخص اس قسم کی پیشگوئی کرے اور وہ اپنے وقت پر پوری بھی ہو جائے تو کیا شک ہے کہ وہ سچاہے اور اسکے الہام رحمانی ہیں۔پس معترضین کو چاہئے کہ بجائے ان پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے کے ان پیشگوئیوں کو دیکھیں جو اس خاص زمانہ کے لئے ہیں اور جو سینکڑوں کی تعداد میں پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔اگر آئندہ ہونے والی پیشگوئیوں کو نظر اعتراض سے دیکھا گیا تو کوئی نبی سچا ثابت نہ ہو سکے گا مثل حضرت موسیٰ نے خبردی تھی کہ میری قوم شام کی وارث ہوگی اگر ان کے فوت ہونے سے انکی قوم بگڑ جاتی اور ان کو کافرو دجاّل ٹھہراتی تو کس قدر مشکل پڑتی۔یا جب حضرت داودؑسے وعدے کئے گئے تھے اور وہ حضرت مسیح ؑکے وقت میں پورے ہوئے تو کیا درمیانی زمانہ کے لوگوں کاحق نہ تھا کہ وہ اعتراض کرتے کہ فلاں فلاں وعدہ پورا نہیں ہٹایا حضرت عیسیٰ ؑنے جب اپنے حواریوں کو تختوں کے وعدے دیئے تھےاور اپنے لئے باردشاہی کی خبر دی تھی تو اس وقت اگر وہ لوگ انکار کر بیٹھتے کہ خود تو سولی پر لٹکایا گیا معلوم نہیں ہمارا کیا حال ہو گا تو کیا ان کے لئے بہتر ہوتا؟ یا ہمارے نبی کریم اﷺنے ریل کی سواری کی خبر دی تھی جو آج کل آکر پوری ہوئی تو کیا بیچ کی بارہ صدیوں کے لوگ دین اسلام کوترک کر دیتے اور کفر اختیار کر لیتے کہ وہ نئی سواری کا وعدہ