انوارالعلوم (جلد 1) — Page 149
بات بات پر اعتراض کرتے تھے اور بول اٹھتے اور شور مچا دیتے کہ دیکھو ایسا مت کہو ہم بھی اسرائیل نہیں۔اور اپنے والدین کا نام بتاتے کہ ان لوگوں کی اولاد سے ہیں۔اور پھر قرآن شریف میں حضرت ابراہیمؑ کی نسبت آتا ہے کہ وو ھبناله اسحق ويعقوب (الانعام : ۸۵) یعنی ہم نےحضرت ابراہیمؑ کو اسحقؑ اور یعقوبؑ عطا کئے حالانکہ حضرت یعقوب ؑحضرت ابراہیمؑ کے بیٹے نہ تھے۔بلکہ حضرت اسحقؑ کے لڑکے تھے۔پس معلوم ہوا کہ خدا کے کلام میں ایسا آجاتا ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔اور پھر قرآن شریف میں آتا ہے وإذاخذنامیثاقکم ورفعنا فوقكم الطور (البقرہ:۶۴) حالا نکہ مخاطب تو وہ تھے جو نبی کریم اﷺکے مخالف تھے۔اورحوالہ ان کا دیا جو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں گذرے ہیں۔کیا یہودیوں کا حق نہ تھا کہ وہ کہتے کہ یہ غلط ہے ہم سے طور کے نیچےکوئی معاہدہ نہیں لیا گیا۔مگر افسوس کہ وہ آج کل کے معترضین سے زیادہ سمجھ رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کبھی پہلوں کا نام لیا جا تا ہے اور مخاطب پچھلے کئے جاتےہیں۔اور پہلے مراد ہوتے ہیں۔اور بیٹے سے پوتا یا پڑ پوتا یا نسل میں سے کوئی اور شخص مراد ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں ہوتی۔پھر مسلمانوں کو بہت سے حکم قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں۔مثلا یايهاالنبی اذاطلقتم النّساء فطلقوھن لعدتھن(الطلاق۲): یعنی اےنبی جب طلاق دو تم عورتوں کو تو طلاق دو ان کو ان کی عدت پر۔تو کیا یہ احکام خاص حضرت نبی کریمﷺکے لئے ہیں۔اور دوسرے مسلمان اس سے بری ہیں۔اور اگر بفرض محال و ہ شامل ہوگئےتو آج کل کے مسلمان تو ضرور اس کی پابندی سے آزاد ہو گئے۔پس جب ایسا نہیں ہے اور کلام الہی میں اس قسم کا کلام آجاتا ہے۔تو اس بے فا ئد ہ اعتراض سے کیافائد ہ۔اعتراض تو ایسا ہونا چاہئےجو عقل کے مطابق ہو اور پہلے انبیاءؑ پر نہ پڑے جب ایک اعتراض سے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور کل انبیاء علیھم السلام پر حرف آتا ہے تو ایسا اعتراض بجائے فائدہ کے الٹا عذاب الہٰی کاموجب ہوتا ہے، پس وہ جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں خوش ہوتے ہیں چاہیئے کہ ڈریں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی غیرت شریر کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑتی اور بے جاطعنہ کرنےوالا خود مورد قہرالہٰی ٹهہر تا ہے۔غور کرو کہ قرآن شریف میں صاف آتا ہے و جاهدوا في اللہ حق جهاده ھو اجتبٰكم وماجعل عليكم في الدين من حرج ملة ابیکم ابرھیم ھو سمّٰکم المسلمین(الحج۷۹) اور کوشش کرو اللہ کی راہ میں خوب کوشش جس نے پسند کیا تم کواور نہیں کی تمهارے لئے دین میں کوئی تنگی - رود این جو تمہارے باپ ابراہیم کا ہے جس نے تمهارا