انوارالعلوم (جلد 1) — Page 133
کہ یہ شخص محض جھوٹا اور مفتری ہے اور کذّاب ہے۔اور خدا اور اس کے رسول پر ٹھٹھاکر تا ہے۔اور فریب اور مکر دینا اس کا کام ہے سے متنفر ہے اور جھوٹ پر قربان ہے مگر ابھی اس کا وہ طریقہ نہ گیا۔اور اس نے کوئی ہدایت نہ پائی اور سمجھا کہ خدا کا كلام اس پر سے ٹل جائے گا کیا یہ نہیں جانتا کہ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں۔اور اس کو جو ڈھیل دی گئی ہے وہ صرف اس لئے ہے کہ یہ خود اپنے قول کے مطابق کذّاب ثابت ہو اور اس کے بعد ذلت کے عذاب سے ہلاک ہوتا کہ دنیا دیکھ لے کہ مفتی کا کیا انجام ہوتا ہے۔اور جھوٹے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوئے بغیر نہیں رہتے۔اس کے بعد میں ایک اور قول اس کے رسالہ مرقع قادیانی میں سے نقل کرتا ہوں جس سے میرے پہلے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص عبدالحق سرہندی کا مضمون اس میں شائع ہوا ہے اور اس میں اس شخص نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب اور مرزائیوں سے یہ سوال ہے کہ اگر جھوٹے کاسچے کی زندگی میں مرناواقعی ضروری اور قانون الہی ہے جیسا کہ آپ کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے تو معاذاللہ نقل کفر کفر نباشد۔کیا رسول الله لهﷺمسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرمانے کے باعث اس جنرل رول rule) Generalکے زیر اثر ہیں؟ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ! بریں عقل و دانش بباید گریست۔اور اس |مضمون کی اس نے قطعا ًتردید نہیں کی اور کیوں کرتا اس نے تو خود اپنے آپ کوئی الزام سے بچانے کے لئے یہ کوشش کی تھی۔اب ناظرین اس مضمون کو دیکھ کر خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے معیار سچے اور جھوٹ کے پرکھنے کا یہ رکھا تھا کہ جھو ٹالمبی عمرپاتا ہے اور یہ اس کے قول کے مطابق نہ صرف قرآن شریف سے ہی ثابت ہے بلکہ مسیلمہ کا زندہ رہنا اس کی دلیل ہے۔پس جب اس نے خود فیصلہ کی بنیاد اس پر رکھی کہ جھوٹے کو ڈھیل دی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ نے بھی اس سے ویسا ہی سلوک کیا۔کیونکہ کسی پر حجت قائم کرنے کے لئے چاہئے کہ کوئی ایسی طرز نکالی جائے جس سےاسے اتفاق ہو جائے۔اس سے پہلے چند لوگوں نے جھوٹے کے لئے ہلاکت بتائی و حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہلاک ہو گئے۔اس نے لکھا کہ مسیلمہ کذّاب نبی کریم ﷺا کے بعد بھی زندہ رہا اس لئے یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ جھوٹے کو لمبی عمردی جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ویساہی کیا اور اسکواسی کے قول کے مطابق قائل کیا اور نادم کیا اور ثابت کر دیا کہ ثناء اللہ مسیلمہ کذاب کی طرح ہے اور ان لوگوں کی طرح ہے جن کی نسبت قرآن شریف میں ڈھیل دینے کا حکم ہے۔اور حضرت اقدس احمدؑان کے غلام ہیں۔اور ان کے پیرو ہیں اور ہر ایک بات میں ان کے قدم بقد م چلنے والے ہیں۔اوران سے بھی خداوہی سلوک کرتا ہے جو پہلے نبیوں سے کرتا