انوارالعلوم (جلد 1) — Page 83
مطلق ہے اور کل عیوب سے پاک ہے اور سب سے بڑی خصوصیت اسلام میں یہ بتاتی ہے کہ اس میں محبت کرنے والے کو بالکل صاف جواب نہیں ملتا بلکہ خدا تعالیٰ اس کے امتحان کے بعد اس سے ہم کلام ہوتا ہے اور اسی محبت کی گرمی کو جو محبت کرنے والےکے دل میں ہر ایک چیز کو جلا رہی ہوتی ہے اپنے تسکین دہ کلام سے ٹھنڈا کرتا ہے اور اس سوزش اورجلن کو دور کرتا ہے جو کہ جواب کے نہ ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور اس طرح محبت اور بھی چمک اٹھتی ہے اور اس کے دل میں ایک جوش پیدا ہوتاہے کہ میں خدا کے اور بھی قریب ہو جاؤں اور اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ یہاں تک نزدیک ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے اثت ميث و أنا من یعنی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرا نام دنیا میں تیرےسبب سے ظاہر ہے اور تیری عزت میرے سبب سے ہے اور درحقیقت خدا تعالیٰ کے نام کا جلال دنیا پرظاہر کرنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں جو کہ اس کی محبت کے دریا میں غرق ہوتے ہیں اوران کی عزت صرف اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔میں محبت الہی کے لفظ پر جس قدر سوچتا ہوں اسی قدر ایک خاص لذت اور وجد دل میں پیدا ہو تا ہے کہ کیا پیارا ہے مذہب اسلام جس نے ہم کو ایسی نعمت کی طرف ہدایت کی ہے جس سےہمارے دل روشن اور ہمارے دماغ منور ہوتے ہیں۔اسلام کی تعلیم ہمارے زخمی دلوں کے لئےایک مرہم کا کام دیتی ہے اور اگر اسلام نہ ہو تاتو بخداطالب حق تو زندہ ہی مر جائے اور وہ جن کےدلوں میں محبت کا ذوق ہے ان کی کمر ٹوٹ جاتی۔اور محبت ایک ناممکن و جوردسمجھی جاتی۔اور اس کووہم سے موسوم کیا جا تا۔کیونکہ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس سے ہم محبت کرسکیں تو وہ محبت کے وجود میں شک لانے کے سوا اور کیا کر سکتے۔خدا نے اسلام سامذ ہب انسان کو عطاکر کے غمگین دلوں کو تسکین دی ہے۔اور زخمی سینوں کو مرہم عنایت کی ہے، جب ایک خدا سےمحبت کرنے والا انسان دیکھتا ہے کہ وہ جس سے میں محبت کرتا ہوں ایک ذرہ ذرہ کو دیکھتا ہے۔اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے وہ سنتا ہے اور بولتا ہے اور پھر یہ کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنے سےمحبت کرنے والے کو بدلہ دے تو اس وقت وہ اپنے دل میں اس محبت کی وجہ سے ایک خوشی حاصل کرتا اور خاص لذت محسوس کرتاہے۔اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں تم سب کو خداکے ساتھ اخلاص اور محبت نصیب ہو اوروہ لوگ جو گمراہ ہیں ہدایت پائیں اور اس ہستی سے محبت کریں جو کہ محبت کے لائق ہے۔آمین۔(تشحيذ الا ذہان مارچ ۱۹۰۷ء) خاکسار میرزا محموداحمد