انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 617

جن کے نہ تو کو ئی رشتہ دار تھے جن کے پاس رہتے نہ اُن کے پا س مال تھا کہ اس پر گزارہ کرتے اور نہ کسی شخص کے ذمہ ان کا خرچ تھا۔جب نبی کریم ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپؐ ان کی طرف بھیج دیتے اور اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے اور جب آپؐ کے پاس کو ئی ہدیہ آتا تو آپؐ اُن کو بلا بھیجتے اور ہدیہ سے خود بھی کھا تے اور ان کو بھی اپنے سا تھ شریک فرماتے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ فر ما تے ہیں کہ یہ بات مجھے اچھی نہ لگی او رمجھے خیال گزرا کہ یہ دودھ اصحاب الصُّفّہ میں کیوںکرتقسیم ہوگا۔میں زیا دہ مستحق تھا کہ اس دودھ کو پیتا اور قوت حاصل کرتا، جب وہ لوگ آجا ئیں گے تو آپؐ مجھے حکم فرما دیں گے اورمجھے اپنے ہا تھ سے ان کو تقسیم کر نا پڑے گا اور غالب گمان یہ ہے کہ میرے لیے اس میں سے کچھ نہ بچے گا لیکن خدا اور رسولؐ کی اطاعت سے کو ئی چارہ نہ تھا پس میں ان لو گوں کے پاس آیا اور ان کو بلا یا۔وہ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی۔آنحضرت ﷺنے ان کو اجازت دی پس وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فر ما یا۔ابو ہریرہ!میں نےعرض کیا یا رسولؐ اللہ!حاضر ہوں۔فر ما یا۔یہ پیالہ لو اور ان کو پلاؤ۔میں نے پیالہ لیا اور اس طرح تقسیم کر نا شروع کیا کہ پہلے ایک آدمی کو دیتا جب وہ پی لیتا اور سیر ہو جا تا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھرمیں دوسرے کو دیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو مجھے پیا لہ واپس کر دیتا۔اسی طرح باری باری سب کو پلا نا شروع کیا یہاں تک کہ سب پی چکے اور سب سے آخر میں مَیں نے نبی کریم ﷺ کو پیالہ دیا آپؐ نے پیالہ لے لیا اور اپنے ہا تھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرا ئے اور فر ما یا ابو ہریرہ عرض کیا یارسولؐ اللہ !حکم فرما یا اب تو تم او رمیں رہ گئےہیں۔مَیںنے عرض کیا یا رسولؐ اللہ درست ہے۔فرمایا۔اچھا تو بیٹھ جاؤ اور پیو۔پس مَیں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا جب پی چکا تو فر مایا کہ اَور پیو۔میں نے اَور پیا۔پھر فر ما یا اَور پیو۔اور اسی طرح فرما تے رہے یہاں تک کہ آخر مجھے کہنا پڑا کہ خدا کی قسم!جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اب تو اس دودھ کے لیے کو ئی را ستہ نہیں ملتا اس پر فر ما یا! کہ اچھا تو مجھے دو۔میں نے وہ پیالہ آپؐ کو پکڑادیا۔آپؐ نے خدا تعالیٰ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی۔اور با قی بچا ہوا دودھ پی لیا۔اس حدیث سے رسول کریم ﷺ کی سیرت کے جن متفرق مضامین پر رو شنی پڑتی ہے ان کے بیان کر نے کا تو یہ موقعہ نہیں مگر اس وقت میری غرض اس حدیث کے لا نے سے یہ بیان کر ناہے کہ رسول کریم ﷺ تکبر سے بالکل خالی تھےاور تکبر آپؐ کے قریب بھی نہ پھٹکتا تھا۔رسول کریم ﷺ تو خیر بڑی شان کے آدمی تھے اور جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت دنیاوی شان بھی