انوارالعلوم (جلد 1) — Page 616
فَأَرِنِي ، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمّٰى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ (۔بخا ری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبی ﷺواصحابہ وتخلیھم من الدنیا) ترجمہ:اس خدا کی قسم جس کے سوا کو ئی اور خدا نہیں کہ میں بھوک کے مارے زمین پر منہ کے بل لیٹ جا یا کر تا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر با ندھ لیا کرتا تھا(یعنی رسول کریم ﷺ کے زمانہ میںا س وقت صحابہ ؓ زیا دہ تر اپنے اوقات دین کے سیکھنے میں ہی خرچ کر تے تھے اور کم وقت اپنی رو زی کے کمانے میںلگا تے تھےا س لیے دنیاوی مال آپ کے پاس بہت کم ہو تا تھا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو کو ئی کام کیا ہی نہ کر تے تھے،ہر وقت مسجد میں اس انتظار میں بیٹھے رہا کر تے تھے کہ کب رسول کریم ﷺ نکلیں تو میں آپؐ کے ساتھ ہو جاؤںاور جو کچھ آپؐ کے دہن مبارک سے نکلے اس کو یاد کرلوں اور چونکہ سوال سے بچتے تھے کئی کئی وقت کا فاقہ ہو جاتا لیکن ہر حال میں شاکر تھے اور آستا نہ ٔ مبارک کو نہ چھوڑتے تھے)ایک دن ایسے ہواکہ میں اس راستہ پر بیٹھ گیاجس پر سے صحابہؓ گذر کراپنے کاروبارکے لیےجاتےتھے،اتنے میں (حضرت) ابوبکر ؓ گزرے پس میں نے ان سے قرآن کریم کی ایک آیت پو چھی ا ورمیں نے یہ آیت ان سے اس لیے نہ پوچھی تھی کہ وہ مجھے اس کےمعنی بتا ئیں بلکہ اصل غرض میری یہ تھی کہ شا ید ان کی تو جہ میری طرف ہواور میرا پیٹ بھر دیں لیکن انہوں نے معنی بتا ئے اور آگے چل دیے،مجھے کچھ کھلا یا نہیں۔ان کے بعد حضرت عمر ؓگزرے۔میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت پوچھی اور وہ آیت بھی مجھ کو آتی تھی میری اصل غرض یہی تھی کہ وہ مجھے کچھ کھلا ئیں مگر وہ بھی اسی طرح گزر گئے اور مجھےکچھ نہ کھلا یا۔پھر وہاں سے ابو القاسم ﷺ(یعنی آنحضرت فداہ نفسی)گزرے آپؐ نے جو نہی مجھے دیکھا مسکرا دیے او رجو کچھ میرے جی میں تھا اورجومیرے چہرہ سے عیاں تھا(یعنی بھوک کے آثار)اس کو پہچا ن لیا پھر فر ما یا ابو ہریرہ ! میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! حاضر ہوں ارشا د فرما یئے،فر ما یا میرے سا تھ چلے آؤ۔پس میں آپؐ کے پیچھے چل پڑا آپؐ اپنے گھر میں داخل ہو ئے اور میرے لیے اجازت مانگی پھر مجھ کو اندر آنے کی اجازت دی۔پھر آپؐ اندر کمرہ میں تشریف لے گئے اور ایک دودھ کا پیالہ رکھا پا یا۔آپؐ نے دریا فت فر ما یا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟اندر سے جواب ملا فلا ں مرد یا فلاں عورت (حضرت ابوہریرہ ؓ کو یاد نہیں رہا کہ مرد کہایا عورت)نے حضور ؐ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے۔اس پر مجھے آوازدی۔میں نےعرض کیا۔یا رسولؐ اللہ !حاضر ہوں۔فرمایا اہلِ صفّہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا ؤ۔ابوہریرہؓ فر ما تے ہیں کہ اہلِ صفّہ اسلام کے مہمان تھے