انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 586

اِلَّا اٰتَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ مِنْھَا(بخاری کتاب المغازی باب قدوم الا شعر یین واھل الیمن) آپؓ نے فر ما یا کہ ہم چند آدمی جو اشعری قبیلہ کے تھے۔نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ہم نے آپؐ سے سواری مانگی۔آپؐ نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے میں نہیں دے سکتا۔ہم نے پھر عرض کیا کہ ہمیں سواری دی جاوے تو آپؐ نے قسم کھا لی کہ ہمیں سواری نہ دیں گے پھر کچھ زیا دہ دیر نہ لگی تھی کہ نبی کریم ﷺکے پاس کچھ اونٹ لا ئے گئے پس آپؐ نے حکم دیا کہ ہمیں پا نچ اونٹ دیے جاویں۔پس جب ہم نے وہ اونٹ لے لیے ہم نے آپس میں کہا کہ ہم نے تو آنحضرت ﷺ کو دھوکا دیا ہے اور آپؐ کوآپؐ کی قسم یا دنہیں دلا ئی ہم اس کے بعد کبھی مظفر و منصور نہ ہوں گے اس خوف سے میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہاکہ یا رسولؐ اللہ !آپؐ نے تو قسم کھائی تھی کہ آپؐ ہمیں سواری نہ دیں گے اور اب تو آپؐ نے ہمیں سواری دے دی ہے۔فر ما یا ہاں اسی طرح ہوا ہے۔میں کوئی قسم نہیں کھا تا لیکن جب اس کے سوا کو ئی اَور بات بہتر دیکھتا ہوں تووہ بات اختیار کرلیتا ہوں جو بہتر ہو۔اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مقصود کیا تھا آپؐ کے کام کسی دنیاو ی مصلحت یا ارادہ کے ماتحت نہ ہو تے تھے بلکہ آپؐ اپنے ہر کام میں یہ بات مد نظر رکھتےتھے کہ جو کچھ آپؐ کر تے ہیں وہ واقعہ میں نفع رساں بھی ہے یا نہیں اور اگر کبھی معلوم ہو جا ئے کہ آپؐ نے کو ئی ایسا کام کیا ہے یا اس کے کرنے کا ارادہ کیا ہے جو کسی انسان کےلیے مضر ہو گا یا اسے اس سے تکلیف ہو گی توآپؐ فوراً اپنے پہلے حکم کو واپس لے لیتے اور وہی بات کرتے جوبہترا ور نفع رساں ہو تی۔ایک ظاہر بین انسان کہہ سکتا ہے کہ اس سے رعب ود اب میں فرق آتا ہے اور حکومت کو نقصان پہنچتا ہےمگر اس بات سے تو آپؐ کی خوبی اور نیکی کا پتہ چلتا ہے کہ خواہ کو ئی امر کیسا ہی خطرناک اور مُضر معلوم ہو تا ہو آپؐ بے دھڑک اسے اختیار کر لیتے تھے جبکہ آپؐ کو یقین ہوجاتا ہے کہ اس سے لوگوں کے حقوق کی نگہداشت ہو تی ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان تھا کہ باوجود اس بات کے آپؐ کو ایسا رعب وداب میسر تھا جو دنیا کے کسی بادشاہ کو میسر نہیں۔واقعہ میں ایک بادشاہ کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سکھ پہنچائے اور آپؐ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ آپؐ دین و دنیا کے لیے ایک کامل نمونہ تھے اور آپؐ کی زندگی دنیاوی بادشاہوں کے لیے بھی نمونہ ہے کہ بادشاہوں کو اپنے ماتحتوں اور رعایا کے سا تھ کیسا سلوک کرنا چاہیے اور کس طرح ضد اور تعصب سے الگ ہو کر ہر ایک قر بانی اختیار کرکے لوگوں کو آرام پہنچانے کے لیے تیار رہنا