انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 564

اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا۔یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں وہ اپنے رہنے کے لیے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے مگر ملکِ عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحابِ بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔عرب کے ملک میں اب بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں اور ان کے افسر یا امیر جس طرزِ رہائش کے عادی ہیں انہیں بھی جاننے والے جانتے ہیں۔خود شریفِ مکہ جنہیں صرف حجاز میں ایک حد تک دخل و تصرف حاصل ہے انہی کے دروازہ پر بیسیوں غلام موجود ہیں جو ہر وقت خدمت کے لیے دست بستہ ہیں مگر آنحضرت ﷺسارے عرب پر حکمران تھے۔یمن اور حجاز اور نجد اور بحرین تک آپ کے قبضہ میں تھے مگر باوجود تمام عرب اور اس کے اردگرد کے علاقوں پر حکومت کرنے کے آپ کا گھر کے کاروبار خود کرنا اس پاکیزگی کی طرف ہمیں اشارہ کررہا ہے جو آپ کے ہر عمل سے ظاہر ہورہی تھی۔اور اس طہارتِ نفس کی طرف متوجہ کر رہا ہے جو آپ کے ہر فعل سے ہویدا تھی۔دنیا طلبی اور اظہارِ جاہ و جلال کی آگ اُس وقت لوگوں کے دلوں کو جلا رہی تھی اور امراء تو اس کے بغیر امراء ہی نہیں سمجھے جاتے تھے مگر اس آگ میں سے سلامت نکلنے والا صرف وہی ابراہیم کا ایک فرزندﷺ تھا جس نے اپنے دادا کا معجزہ اور بھی بڑی شان کے ساتھ دنیا کو دکھایا۔میں نے پچھلےباب میں آنحضرت ﷺ کی سا دگی کا ذکر کیا ہے کہ آپ ؐکس طرح تکلفات سے محفوظ تھے اور آپؐ کا ہر ایک فعل اپنے اندر سادگی اور بے تکلفی کا رنگ رکھتا تھا اب میں آپ ؐکی سا دہ زندگی کا حال بیان کر نا چاہتا ہوں۔کھجور اور پا نی پر گزارہجو لوگ اس زمانہ کے امراء اور دولت مندوں کے دیکھنے کے عادی ہیں وہ تو خیال کر تے ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ بھی انہیں کی طرح عمدہ عمدہ کھانے کھایا کر تے ہوں گے اور ایک شاہانہ دسترخوان آپؐ کے آگے بچھتا ہوگا لیکن وہ یہ معلوم کرکے حیران ہوں گے کہ واقعہ بالکل خلاف تھا۔اور اگر ایک طرف آنحضرت ﷺ سادگی کے کامل نمونہ تھے دوسری طرف سادہ زندگی میں بھی آپؐ دنیا کے لیے ایک نمونہ تھے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بھانجے حضرت عروہؓ سے فرمایا: یَاابْنَ اُخْتِیْ اِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ اِلَی الْھِلَالِ ثُمَّ الْھِلَالِ ثَلَاثَۃَ اَھِلَّۃٍ فِیْ شَھْرَیْنِ وَمَا اُوْقِدَتْ فِیْ اَبْیَاتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ