انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 550

مِنْ اَوَّلِ مَا یُفِیْئُ اللہُ عَلَیْنَا فَلْیَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَیَّبْنَا ذٰلِکَ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّا لَانَدْرِیْ مَنْ اَذِنَ مِنْکُمْ فِیْ ذٰلِکَ مِمَّنْ لَمْ یَاْذَنْ فَارْجِعُوْاحَتّٰی یَرْفَعَ اِلَیْنَا عُرَفَاؤُکُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَھُمْ عُرَفَاؤُھُمْ ثُمَّ رَجَعُوْااِلیٰ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرُوْہُ اَنَّھُمْ قَدْ طَیَّبُوْاوَاَذِنُوْا۔(بخاری کتاب الوکالۃ باب اذا وھب شیئا لوکیل) ترجمہ:-جب وفد ہو ازن بحالت قبول اسلام آنحضرت ﷺ کے پاس آیا آپؐ کھڑے ہو ئے۔ہوازن کے ڈیپوٹیشن کے ممبروں نے آنحضرت ؐ سے سوال کیا کہ ان کے مال اور قیدی واپس کیے جا ئیں۔رسول اللہ ﷺ نے جواب میں فر ما یا کہ مجھے سب سے پیاری وہ بات لگتی ہےجو سب سے زیادہ سچی ہو۔پس میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ دونوں چیزیں تمہیں نہیں مل سکتیں۔ہاں دونوں میں سے جس ایک کو پسند کرو وہ تمہیں مل جائے گی۔خواہ قیدی آزاد کروالو خواہ اموال واپس لے لو۔اور میںتو تمہارا انتظار کر تا رہا مگر تم نہ پہنچے،اور رسول کریمؐ طائف سے لوٹتے وقت دس سے کچھ اوپر را تیں ان لوگوں کا انتظار کر تے رہے تھے جب انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ رسول کریم ؐ انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر یہی بات ہے تو ہم اپنے قیدی چھڑوانا پسند کرتے ہیں۔اس پر آنحضرت ؐ مسلمانوںمیں کھڑے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کر نے کے بعد فر ما یا کہ سنو تمہارے ہوازن کے بھا ئی تا ئب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میری رائے ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔پس جو کو ئی تم میں سے یہ پسند کرےکہ اپنی خوشی سے غلام آزاد کر دے تو وہ ایسا کر دے۔اور اگر کو ئی یہ چاہے کہ اس کا حصہ قائم رہے اور جب خدا سب سے پہلی دفعہ ہمیں کچھ مال دے تو اسے اس کا حق ہم ادا کر دیں تو وہ اس شرط سے غلام آزاد کر دے۔لو گوں نے آپؐ کا ارشادسن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم نے آپ ؐ کے لیے اپنےغلام خوشی سے آزاد کر دیے مگر رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا ہم تو نہیں سمجھتے کہ تم میں سے کس نےخوشی سے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔پس سب لوگ یہاں سے اٹھ کر اپنے خیموں پر جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تم سے فیصلہ کرکے ہمارے سا منے معاملہ پیش کریں۔پس لوگ لوٹ گئے اور ہر قبیلہ کے سردار نے اپنے طور پر گفتگو کی پھر سب سردار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور عرض کیا کہ سب لوگوں نے دل کی خوشی سے بغیر کسی عوض کی طمع کے اجازت دے دی ہے کہ آپؐ غلام آزاد فر ما دیں۔