انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 543

ﷺکا حال با لکل اس کے بر خلاف تھا۔آپؐ کبھی لوگوں کے اموال پر ہا تھ نہ ڈالتے بلکہ باوجود اپنے لا ثانی تقویٰ اور بے نظیر خشیت الٰہی کے آپؐ لو گوں کے اموال کو اپنے گھر بھی رکھنا پسند نہ کر تے تھے۔حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صَلَّیْتُ وَرَآءَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ اِلیٰ بَعْضِ حُجَرِ نِسَآئِہٖ فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِہٖ فَخَرَجَ عَلَیْھِمْ فَرَاٰی اَنَّھُمْ عَجِبُوْامِنْ سُرْعَتِہٖ فَقَالَ ذَکَرْتُ شَیْأً مِنْ تِبْرٍ عِنْدَ نَا فَکَرِھْتُ اَنْ یَّحْبِسَنِیْ فَاَمَرْتُ بِقِسْمَتِہٖ(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب من صلّی بالناس فذکر حابۃً)میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے مدینے میں عصر کی نماز پڑھی۔پس آپؐ نے سلام پھیرا اور جلدی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنوں پر سے کو دتے ہو ئے اپنی بیویوں میں سے ایک کے حجرہ کی طرف تشریف لے گئے۔لوگ آپؐ کی اس جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے۔پس جب با ہر تشریف لائے تو معلوم کیا کہ لوگ آپؐ کی جلدی پر متعجب ہیں۔آپؐ نے فر مایا کہ مجھے یاد آگیا کہ تھوڑا سا سو نا ہمارے پاس رہ گیا ہے اور میں نے نا پسند کیا کہ وہ میرے پا س پڑا رہے اس لیے میں نے جا کر حکم دیا کہ اسے تقسیم کر دیا جا ئے۔اس واقعے سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ مال کے معاملہ میں نہایت محتاط تھے اور کبھی پسند نہ فرماتے کہ کسی بھول چوک کی وجہ سے لوگوں کا مال ضائع ہو جا ئے۔آپؐ کی نسبت یہ تو خیال کر نا بھی گناہ ہے کہ نعوذباللہ آپؐ اپنےنفس پر اس بات سے ڈر ے ہوںکہ کہیں اس سونے کو میں نہ خرچ کر لوں۔مگر اس سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ آپؐ اس بات سے ڈر ے کہ کہیں جہاں رکھا ہو وہیں نہ پڑا رہے اور غرباء اس سے فائدہ اٹھا نے سے محروم رہ جائیں۔اور اس خیال کے آتے ہی آپؐ دوڑ کر تشریف لے گئے اور فوراً وہ مال تقسیم کر وایا اور پھر مطمئن ہو ئے۔اس احتیاط کو دیکھو اوراس بے احتیاطی کو دیکھو جس میں آج مسلمان مبتلا ہو رہے ہیں۔امانتوں میں کس بے دردی سے خیانت کی جا رہی ہے۔لوگ کس طرح غیروں کا مال شیر مادر کی طرح کھا رہے ہیں۔حقوق کا اتلاف کس زور وشور سے جا ری ہے مگر کو ئی نہیں جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے۔آنحضرت ﷺ جیسا پا ک انسان جس پر گناہ کا شبہ بھی نہیںکیا جاسکتا۔غرباء کے اموال کی نسبت ایسی احتیاط کرے کہ ان کا مال استعمال کر نا تو الگ رہا اتنا بھی پسند نہ فرمائے کہ اسے اپنے گھر میں پڑا رہنے دے اور اب گھر میں رکھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس اپنے اموال رکھوائیں تا ہم پھر انہیں واپس نہ دیں۔کاش ہمارے رؤسا ء اس نکتے کو