انوارالعلوم (جلد 1) — Page 515
بادشاہ تھا اورہزاروں قسم کے انتظامات اس کے زیرِ نظر تھے لیکن اپنی وفات کے وقت اسے ان چیزوںمیں سے ایک کا بھی خیال نہیں۔نہ وہ آئندہ کی فکر کر تا ہے نہ تدابیر ملکی کے متعلق وصیت کر تا ہے نہ اپنے رشتہ داروں سے متعلق ہدایات لکھواتا ہے بلکہ اس کی زبان پر اگر کو ئی فقرہ جاری ہے تویہی کہ اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی الَلّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی اے میرے اللہ ! مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے اے میرے اللہ ! مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے۔اس فقرہ کو ذرا مضطربانہ حرکات سے مقابلہ کرکے دیکھو جو عام طور سے مرنے والوں سے سرزد ہو تی ہیں کیسا اطمینان ثابت ہو تا ہے۔کیسی محبت ہے۔ساری عمر آپؐ خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے۔خلوت و جلوت غرضیکہ ہر جگہ آپؐ کو خد اہی خدا یاد تھا اور اسی کا ذکر آپؐ کی زبان پر جا ری تھا اور اب جبکہ وفات کا وقت آیا تب بھی بجائے کسی اَو ردنیاوی غرض یامطلب کی طرف متوجہ ہونے کے خدا ہی کی یاد آپؐ کےسینہ میں تھی اور جن کو چھوڑچلے تھے ان کی فرقت کے صدمہ کی بجائے جن سے ملنا تھا ان کی ملا قات کی تڑپ تھی اور زبان پر اپنے رب کا نام جاری تھا۔آہ! کیسا مبارک وہ وجود تھا۔کیا احسان ماننے والا وہ انسان تھا۔اس کی زندگی بہتر سے بہتر انسانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور مہذب سے مہذب روحوں کے لیے ایک نمونہ تھی اس نے اپنے پیدا ہو نے سے مرنے تک کو ئی وقت اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں گزارا۔وہ پاک وجود خدا تعالیٰ میں بالکل محو ہی ہو گیا تھا اور اس کی نظر میں سوائے اس وحدہٗ لا شریک خدا کے جو لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ ہے اور کو ئی وجود جچتا ہی نہ تھا۔پھر بھلا جو ذکر کہ تمام عمر اس کی زبان پر رہا وفات کے وقت وہ اسے کہاں بھلا سکتا تھاوہ کچھ انسان ساری عمر کہتا یا کر تا رہا وہی اسے وفات کے وقت بھی یاد آتا ہے۔پھر جس کی عمر کا مشغلہ ہی یاد الٰہی ہو اور زندگی بھر جس کی روحانی غذا ہی ذکرالٰہی ہو وہ وفات کے وقت اَور کسی چیز کو کب یاد کرسکتا تھا۔مجھے میرا مولا پیارا ہے او رمجھے محمد رسول اللہ ﷺ بھی پیارا ہے کیونکہ وہ میرے مولا کا سب سے بڑا عاشق اور دلدادہ ہے اور جسےجس قدر میرے رب سے زیا دہ الفت ہے مجھے بھی وہ اسی قدر عزیز ہے۔اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اَلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیدٌ مَّجِیْدٌ۔