انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 509

جواب دیا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریم ؐ کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا(ابو قحافہ حضرت ابوبکر ؓ کے والد تھے)پھر آپؐ نے (لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر)فرمایا کہ کیا وجہ ہےکہ میں نے دیکھا کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹیں۔جسے نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے اسے چاہیے کہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو خود ہی اس کی طرف توجہ ہو گی اور تالیاں پیٹنا تو عورتوں کا کام ہے۔اس حدیث سے اگر چہ اور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک ا مر کی طرف متوجہ کر نا ہے او روہ یہ کہ آنحضرت ؐ کی تمام عمر کی کو شش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہوسکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے۔خود تو جس طرح آپ ؐ ذکر میں مشغول رہتے اس کا حال میں بیان کر چکا ہوں مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ دیکھنا چاہتے تھے۔آپؐ کی آمد کی اطلاع دینے کے لیے اگر صحابہ ؓ نے تا لیاں بجا ئیں تو یہ ان کا ایک رواج تھا اور ہر ایک ملک میں اطلاع عام کے لیے یا متوجہ کر نے کے لیے لوگ تا لیاں بجاتے ہیں آج کل بھی جلسوں میں ایسا ہی ہو تا ہے کہ جب کسی لیکچرار کی کو ئی بات پسند آئے تو اس پر تا لیاں پیٹتے ہیں تا کہ لوگوں کو تو جہ پیدا ہو کہ یہ حصۂ لیکچر خاص توجہ کے قابل ہے پس تا لیاں بجانا اس کام کے لیے رائج ہے لیکن رسول کریمؐ کی یاد الٰہی سے محبت دیکھو کہ آپؐ نے دیکھا کہ بعض دفعہ ضرورت تو ہو تی ہے کہ لوگوں کو کسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے پھر کیوں نہ اس ضرورت کے موقع پر بجائے اس بے معنی حرکت کے لوگوں کو اس طرف لگا دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات او ر جوشوں کے اظہار کے لیے بجائے تالیاں بجانے کے سبحان اللہ کہہ دیا کریں۔کم سے کم ایسے موقع پر ہی خدا کا ذکر ان کی زبان پر جاری ہو گا۔یہ وہ حکمت و فلسفہ ہے جسے دنیا کےکسی رہنما اور ہادی نے نہیں سمجھا اور کو ئی مذہب نہیں جو اس حکم کی نظیر پیش کر سکے کہ اس نے بھی بجا ئے لغو یات کے لوگوں کو ایسی تعلیم کی طرف متوجہ کیا ہو کہ جو ان کے لیے مفید ہو سکے تالیاں بجانا بے شک جذبات انسانی کا ترجمان تو ہو سکتا ہے لیکن وہ ایسا ہی ترجمان ہے کہ جیسے ایک گونگے کے خیالات کا ترجمہ اس کے اشارات ہو جا تے ہیں کیونکہ تالیاں بجانے سے صرف اسی قدر معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے دل میں کو ئی جوش ہے اور یہ اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کر نا چاہتا ہے یا یہ کہ کسی کو غلطی پر دیکھ کر اسے اس کی غلطی پر متنبہ کر نا چاہتا