انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 506

سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو۔جس کام میں کسی حاکم کی ناراضگی کاخیال ہو۔لوگ اس کے کرنے سے بچتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کو ئی خوف نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اس کی نافرمانی سے کچھ نقصان نہ ہو گا لیکن رسول کریم ؐ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی اصل ناراضگی ہے اور انسان کو چاہیے کہ نہ صرف گناہوں سے بچے بلکہ ان کاموں سے بھی بچے کہ جن کے کرنے میں شک ہو کہ یہ جائز ہیں یا ناجائز کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان کاموں کے کرنے پر ہلاک ہو جا ئے اور وہ اسے خدا تعالیٰ کے رحم کے استحقاق سے محروم کردیں۔خدا تعالیٰ کے نام پر یہ جوش اور اس قدر اظہار خوف و محبت ظاہر کر تا ہے کہ آپؐ کے دل میں محبت الٰہی اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ ہر ایک انسان کی طاقت ہی نہیں کہ اس کا اندازہ بھی کر سکے۔ذکرِ الٰہی کی تڑپپچھلی مثال سے تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ یاد الٰہی کے وقت آپؐ کو کس قدر جوش آتا اور کس قدر محبت سے مجبور ہو کر آپؐ کے کلام میں خاص شان پیدا ہو جا تی تھی۔اب میں ایک اور واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی یاد کا نہایت ہی شوق تھا اور آپؐ عبادات کے بجالانے میں کَمَا حَقُّہٗ مشغول رہتے تھے۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐ مرض الموت میں مبتلا ہو ئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادرنہ تھے اس لیے آپؐ نے حضرت ابوبکر ؓکو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔جب حضرت ابوبکرؓ نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپؐ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لیے نکلے۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نّفْسِہٖ خِفَّۃً فَخَرَجَ یُھَادٰی بَیْنَ رَجُلَیْنِ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ رِجْلَیْہِ تَخُظَّانِ الْاَرْضَ مِنَ الوَجْعِ فَاَرَادَاَبُوْبَکْرٍ اَنْ یَّتَاخَّرَ فَاَوْ مَاَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَکَانَکَ ثُّمَّ اُتِیَ بِہٖ حَتّٰی جَلَسَ اِلیٰ جَنْبِہٖ وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ وَ اَبُوْبَکْرٍ یُصَلِّیْ بِصَلَاتِہٖ وَالنَّاسُ یُصَلُّوْنَ بِصَلَاۃِ اَبِیْ بَکَرٍ (بخاری کتاب الآذان باب حد المریض ان یشھد الجماعۃ) کہ حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی پس آپؐ نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے آپؐ کے قدم زمین سے چھوتے جا تے تھے۔آپؐ کو دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔اس ارادہ کو معلوم کرکے رسول کریم ﷺ نے