انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 490

یہ ہمت ہے یا کو ئی ہےجو خدا تعالیٰ کی طرف ایسا متوجہ ہو کہ ایسے خطرناک مصائب کے اوقات میں بھی دشمنوں کی مخالفت کو برداشت کر تا جائے اور جب تک خدا کا حکم نہ ہو اپنی جگہ نہ چھوڑے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ واقعہ میں آپ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک کہ خدا کی طرف سے حکم نہ ہؤا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں فَبَیْنَمَا نَحْنُ یَوْمًا جُلُوْسٌ فِیْ بَیْتِ اَبِیْ بَکْرٍ فِی نَحْرِ الظَّھِیْرَ ۃِ قَالَ قَائِلٌ لِاَبِیْ بَکْرٍ ھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًافِی سَاعَۃٍ لَمْ یَکُنْ یَاْتِیْنَا فِیْھَا فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ فِدَاءٌ لَہٗ اَبِیْ وَاُمِّیْ وَاللّٰہِ مَاجَآ ءَبِہٖ فِی ھٰذِہ السَّاعَۃِ اِلَّا اَمْرٌ قَالَتْ فَجَآءَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَہٗ فَدَخَلَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِاَبِیْ بَکْرٍ اَخْرِجْ مَنْ عِنْدَکَ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍاِنَّمَا ھُمْ اَھْلُکَ بِاَبِیْ اَنْتَ یَارَسوْلَ اللّٰہِ قَالَ فَاِنِّیْ قَدْ اُذِنَ لِیْ فِی الْخُرُوْجِ فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ اَلصَّحَا بَۃَ بِاَبِیْ اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعْمُ(بخاری کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی ﷺو اصحابہ الی المدینۃ) ہم ایک دن بیٹھے ہو ئے تھے کہ عین دو پہر کے وقت رسول کریم ؐ تشریف لا ئے اور سر لپیٹا ہؤا تھا۔آپ اس وقت کبھی نہیں آیا کر تے تھے۔حضرت ابوبکر ؓ نے فر مایا میرے ماں باپ آپؐ پر فدا ہوں آپؐ اس وقت کسی بڑے کام کے لیے آئے ہو ں گے۔عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریمؐ نے اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر گھر میں آئے اور فرمایا کہ جو لوگ بیٹھے ہیں ان کو اٹھا دو۔حضرت ابوبکر ؓنے عرض کیا یارسولؐ اللہ مجھے قسم ہے کہ وہ آپؐ کے رشتہ دار ہیں۔آپؐ نے فر مایا اچھا مجھے ہجرت کا حکم ہؤا ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ مجھے بھی ساتھ ہی جا نے کی اجازت دیجئے رسول کریم ؐنے فر ما یا بہت اچھا۔اس واقعہ سے معلوم ہو تا ہےکہ آپ ؐ اس وقت تک مکہ سے نہیں نکلے جب تک حکم نہ ہؤا اور آخر وقت تک اس بات پر قائم رہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کو ئی کام نہیں کر نا۔کیسا ایمان،کیسا یقین،کیسا پاک تعلق ہے ففدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔