انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 424

اس کی زندگی رکھی تو سورج کے ذریعہ بادلوں کی معرفت اسے پانی پہنچایا اور اگر آنکھیں دیں تو ان کے کارآمد بنانے کے لئے سورج کی روشنی بھی دی تاکہ وہ اس میں دیکھ بھی سکے۔کان دئے تو ساتھ اس کے خوبصورت آوازیں بھی پیدا کیں۔زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطافرمائیں۔ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کردی۔ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے یہ ہوا کا سامان کیوں کر پیدا ہوگیا اور ممکن تھا کہ آنکھیں انسان کی پیدا ہو جاتیں لیکن وہ عجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا تاکہ وہ اپنا کام کرسکیں۔اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کردئے تھے تو یہ کون سی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کردی۔برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے یا ریچھوں کو تو اتفاق نے پیدا کردیا لیکن کیا سبب کہ ان کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں۔اتفاق ہی نے ان کے علاج بنادئے۔اتفاق ہی نے بچھو بوٹی جس کے چھونے سے خارش ہونے لگ جاتی ہے، پیدا کی اور اس نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اُگا دیا کہ اس کا علاج ہوجائے۔دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوں کے لئے موت تجویز کی ان کے ساتھ تو الد کا سلسلہ بھی قائم کردیا اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہیں رکھتا۔انسا ن اگر پیدا ہوتا اور مرتا نہیں تو کچھ سالوں میں ہی دنیا کا خاتمہ ہوجاتا۔اس لئے اس کے ساتھ فنا لگا دی لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے ہیں نہ اگلے فنا ہوتے ہیں۔کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش رکھی ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا کہ آپس میں ٹکرا نہ جاویں۔کیا یہ باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ ان سب چیزوں کا خالق وہ ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیرمحدود علم والا ہے۔اس کے قواعد ایسے منضبط ہیں کہ ان میں کچھ اختلاف نہیں اور نہ کچھ کمی ہے۔مجھے تو اپنی انگلیاں بھی اس کی ہستی کا ایک ثبوت معلوم ہوتی ہیں۔مجھے جہاں علم دیا تھا اگر شیر کا پنجہ مل جاتا تو کیا میں اس سے لکھ سکتا تھا۔شیر کو علم نہیں دیا اسے پنجے دئے، مجھے علم دیا لکھنے کے لئے انگلیاں بھی دیں۔سلطنتوں میں ہزاروں مدبّر ان کی درستی کے لئے رات دن لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی دیکھتے ہیں کہ ان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد ہو تی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل تباہ ہوجاتی ہیں لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق تو غلطی نہیں کرتا۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو بڑے وسیع عالم کا مالک اور عزیز ہے اور اگر یہ نہ ہوتا تو یہ انتظام نظر نہ